بلوچستان حکومت شپ بریکنگ پر فوری قانون سازی کرے ، مزدور تنظیم

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلوچستان حکومت جلد از جلد شپ بریکنگ کے حوالے سے قانون سازی کرے۔ یکم نومبر 2016ءکو گڈانی میں ایک پرانے آئل ٹینکر (ACES) کو توڑنے کے عمل کے دوران ایک خوفناک دھماکہ میں 29 مزدور جاں بحق ہوئے جن میں سے چار مزدور اب تک لاپتہ ہیں اور 54 زخمی ہوئے، یہ حادثہ پاکستان کی بحری صنعت کی تاریخ کا ایک سب سے جان لیوا صنعتی حادثہ تھا لیکن بدقسمتی سے 8 برس گزر جانے کے باوجود لاپتہ افراد کے لواحقین بلوچستان کے ورکرز ویلفیئر فنڈ سے وعدہ کردہ 5 لاکھ روپے کے معاوضے کے منتظر ہیں مالکان نے جاں بحق مزدوروں کو 15 لاکھ روپے فی کس اور زخمی مزدوروں کو 50 ہزار سے 2 لاکھ روپے کے درمیان معاوضہ ادا نہیں کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر گڈانی شپ بریکنگ ورکرز یونین کے صدر بشیر محمددانی، نیشنل ٹریڈ بقیہ
یونین فیڈریشن رفیق بلوچ، جنرل سیکرٹری ناصر منصور، پیپلز لیبر بیورو کے رہنما حبیب الدین جنیدی ہیومن رائٹس کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ اور دیگر نے جمعہ کو کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام یونینز ایک جامع شپ بریکنگ ایکٹ کے نفاذ کا بلوچستان حکومت سے کررہی ہے تاہم حکومتی پالیسی سازوں نے ابھی تک اس بل کو صوبائی اسمبلی میں پیش نہیں کیا اور نہ ہی قواعد و ضوابط بنائے ہیں انہوں نے کہا کہ شپ بریکنگ انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہوگئی ہے 2024ءمیں ہر ماہ صرف 2 سے 3 جہاز توڑنے کے لیے آرہے ہیں انہوں نے کہا کہ اس عمل کا اثر 15 ہزار براہ راست مزدوروں پر پڑ رہا ہے انہوں نے کہا کہ افراط زر کی بلند ترین شرح کے باوجود ہنر مند مزدوروں کی اجرت ایک ہزار سے ایک ہزار200 روپے روزانہ پر مجبوری کا شکار ہے انہوں نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ مزدوروں کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں