سانحہ 8اگست کی تحقیقاتی رپورٹ پر عملدرآمد کیا جائے، پشتونخوا میپ
پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں 8اگست 2016کے دہشتگردانہ، سفاکانہ واقعہ کی شدید مذمت اور شہید وکلاء ودیگر افرادکو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 8اگست کے دہشتگردانہ واقعہ میں صوبہ کو قابل ترین، محنتی وکلاء سے محروم کیا گیا تھا، دہشتگردی کے اس واقعہ کے خلاف تحقیقاتی کمیشن سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم ہوئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رپورٹ شائع کیا تھا جس میں وزارت داخلہ اور دیگر ایجنسیوں کو ذمہ دار قرار دیاگیا تھا لیکن تحقیقاتی رپورٹ پر آج تک کوئی عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشتگردانہ درجنوں واقعات ہوئے لیکن کسی بھی واقعہ میں ملوث دہشتگردوں کی نشاندہی، گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشتگردی کی حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی ہورہی ہے اور اس طرح ملک میں 70ہزار سے زیادہ پشتون عوام دہشتگردی میں شہید ہوچکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوامیپ نے شروع دن سے دہشتگردی کی مخالفت کی ہے اور آج بھی دہشتگردی کے خلاف ہے۔ حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنا دہشتگردی کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ بیان کے آخر میں شہید وکلاء کو ایک بار پھر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ 8اگست کے واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ پر فوری عملدرآمد کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا تدارک ہوسکیں۔


