سانحہ 8اگست بلوچستان کے نوجوانوں کی نسل کشی تھی، امان اللہ کنرانی
کوئٹہ:سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدرو سینٹر(ر)امان اللہ کنرانی نے سانحہ سول ہسپتال میں درجنوں وکلاء کی شہادت و زخمیوں ہونے کے دلخراش و اندوہناک واقعہ کو بلوچستان کے نوجوانوں کی نسل کشی تعبیر کرتے ہوئے حکمرانوں،عدلیہ و پارلیمنٹ سے قانون سازی کے زریعے نوجوان نسل کو ملک و صوبہ کا حقیقی جانشین بنانے کے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان 21 کروڑ عوام کا مادرے وطن ہے اور یہاں کے جوانوں نے پوری دنیا میں اپنے علم و دانش کا لوہا منوایا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جوانوں کو پذیرائی نہیں ہوئی جسکی وجہ سے گزشتہ 73 سال پاکستان ہر شعبہ میں زوال پذیر ہے 8 اگست 2016 کے مناسبت سے جس میں درجنوں وکلاء شہید اور ایک سو کے قریب زخمی ہوئے حکمرانوں، پارلیمنٹ اور عدلیہ کو متوجہ کرتا ہوں کہ اب اپنا رویہ تبدیل کرتے ہوئے نئی سوچ نئی امنگوں کو پروان چڑھائیں اور اس ملک میں نوجوانوں کو ملک کے معاملات چلانے کا موقع دیں اور اس موقع پر میں مطالبہ کرتا ہوں پاکستان کے تمام شعبوں سے ریٹائرڈ ججوں اور جرنیلوں کو سبکدوش کیا جائے اور ان آسامیوں پر پاکستان کے ذہن، لائق،قابل نوجوانوں کو میرٹ کے بنیاد پر تعینات کر کے ملک کی مستقبل کو کو سنوارا جائے اور اس ملک میں صرف میں صرف چند افراد کو بسانے اور کھلانے کا چارہ نہ بنایا جائے


