دہشتگردی کے واقعات کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دیاجائے، لشکری رئیسانی

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما نوابزدہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ ملک میں دانستہ طور پر حقیقی قیادت کا فقدان پیدا کرکے غیر مقبول لوگوں کو حکومت میں رکھا گیا،سانحہ آٹھ اگست سمیت دہشتگردی کے تمام بڑے واقعات کی آزادنہ تحقیقات کے لئے ایک بااختیار کمیشن تشکیل دیا جائے جو ان واقعات کے ذمہ داروں کا تعین کرے، سیاسی جماعتوں کو ختم کرکے ہمیں نارتھ کوریا طرز کی جانب لے جایا جارہا ہے،یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں سانحہ 8اگست میں شہید ہونے والے صحافیوں کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کرنے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضاالرحمن سمیت دیگر بھی موجود تھے، نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ سانحہ 8اگست سے پیدا ہونے والا خلاء پر کرنا نا ممکن ہے اس واقعہ میں غریب اور مظلوم افراد کو انصاف فراہم کرنے کے لئے لڑنے والے وکلاء اور ان افراد کی آواز بننے والے صحافیوں کو شہید کیاگیا سانحہ 8اگست، سانحہ دینگڑھ، مولانا عبدالغفور حیدری، پی ٹی سی حملوں سمیت جتنے بھی دہشتگردی کے واقعات پیش آئے ان میں ملوث افراد اور ذمہ داروں کا آج تک تعین نہیں ہوسکا ہمیں ہمیشہ ایک بات سننے کو ملی کی ان سانحات کے ماسٹر مائنڈ کو ہلاک کردیا گیا ہم آج بھی انصاف کے دروازے پر کھڑے ہیں کہ ہمیں قاتلوں کا بتایا جائے لیکن چار سال گزرنے کے باوجود بھی آج تک کسی واقعہ کی تحقیقات کا باضابطہ نتیجہ نہیں نکل سکا،انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تحفظ سمیت تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی سمیت دیگر سہولیات فراہم کرے لیکن ہم ٹیکس دینے کے باوجود بھی ان تمام سہولیات سے محروم ہیں سانحہ 8اگست کی انکوائری کر نے کے لئے جو کمیشن بنایا گیا اس کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آج خود انصاف کے متلاشی ہیں انکے خاندان کو ہراساں کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ لوگ عدم تحفظ کی وجہ سے ریاست پر عدم اعتماد کر رہے ہیں ریاست جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کر رہی ہے ہم آئندہ نسلوں کے تحفظ کے لئے ایک ایسے کمیشن کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جو دہشتگردی کے تمام سانحات کی تحقیقات کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرے اور انکے خلاف کاروائی کرے b-13

اپنا تبصرہ بھیجیں