صوبے میں غیر عوامی نمائندوں کی حکومت قائم ہے،ترقی کے لیے ایک اینٹ تک نہیں لگائی گئی، ڈاکٹرمالک بلوچ

ڈیرہ اللہ یار: سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان و نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ صوبے میں غیر عوامی نمائندوں کی حکومت قائم ہے صوبے کے وسائل عوام پر خرچ کرنے کے بجائے تجوریوں میں چھپائے جارہے ہیں دو سالوں میں بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک اینٹ تک نہیں لگائی گئی ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرکردہ حسین بخش عمرانی کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انکا کہنا تھا کہ انتخابات میں جمہوری سیاسی جماعتوں کا راستہ روک کر غیر عوامی لوگوں کو ایوانوں تک پہنچایا گیا جنکے پاس عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوئی پروگرام نہیں ہے مہنگائی بہروزگاری اور لوٹ مار نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے تعلیم صحت سمیت تمام شعبے تنزلی کی جانب گامزن ہیں ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ نصیرآباد ڈویڑن میں کسان زرعی اور پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں پٹ فیڈر کینال اور کیر تھر کینال کی ری ماڈلنگ اور ڈی سلٹنگ نہیں کی گئی ذیلی نہروں میں قلت آب کے خلاف کسان سراپا احتجاج ہیں زرعی شعبہ تیزی کیساتھ غیر مستحکم ہوتا جارہا ہے ڈاکٹر مالک بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی نے اپنی مختصر حکومت کے دوران صوبے میں معیاری تعلیم صحت کی جدید سہولیات اور ترقی و خوشحالی کے لیے سڑکوں کے جال بچھائے گئے ملاقات میں سرکردہ حسین بخش عمرانی نے ڈاکٹر مالک بلوچ اور نیشنل پارٹی کی صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں