پاکستانی سیکرٹری خارجہ کاڈھاکہ آمد، بنگلہ دیش نے اربوں ڈالر کی واجبات، 71 کی جنگ پر معافی مانگنے کا معاملہ اٹھایا
ویب ڈیسک :پاکستان کی سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے جمعرات کو ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے سیکرٹری خارجہ جاسم الدین سے باضابطہ ملاقات کی۔ اس کے علاوہ آمنہ بلوچ نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس اور مشیر خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔15 برس بعد ہونے والی خارجہ سیکریٹریز کی اس پہلی باضابطہ بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان ’غیر حل شدہ تاریخی مسائل‘ کے ساتھ ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان کی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات کے بعد جاسم الدین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بنگلہ دیش نے پاکستان سے 1971 میں علیحدہ ہونے کے بعد واجبات کی مد میں 4.32 ارب ڈالر بھی مانگے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈھاکہ نے پاکستان سے 1971 کی جنگ کے مبینہ مظالم پر باضابطہ معافی مانگنے کا معاملہ بھی اٹھایا۔سیکرٹری خارجہ جاسم الدین نے کہا کہ انھوں نے پاکستان سے بنگلہ دیش میں پھنسے پاکستانیوں کی اپنے وطن واپسی جبکہ 1970 کے طوفان کے متاثرین کے لیے بھیجی گئی غیر ملکی امداد کی منتقلی کا مطالبہ بھی کیا۔صحافیوں کے اس سوال پر کہ کیا بنگلہ دیش اب انڈیا کی بجائے پاکستان کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے، سیکرٹری خارجہ جاسم الدین نے کہا کہ ’اگر بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر قائم رکھنا ہے تو اس کے لیے مسائل حل کرنا ضروری ہے۔‘سیکریٹری خارجہ جاسم الدین کے مطابق بنگلہ دیش میں موجود پاکستانیوں کی واپسی سمیت سقوط ڈھاکہ سے قبل غیر منقسم پاکستان کی دولت کی منصفانہ تقسیم اور 1970 میں طوفان کے متاثرین کے لیے آنے والی غیر ملکی امداد کی ٹرانسفر کا معاملہ اٹھایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں میں سے کچھ بنگلہ دیش میں ہی رہنا چاہتے ہیں لیکن کچھ پاکستان لوٹنا چاہتے ہیں۔‘ ان کے مطابق بنگلہ دیش میں موجود پاکستانیوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ 24 ہزار 447 ہے۔جاسم الدین کا دعوی تھا کہ پاکستان کی جانب سے ان معاملات پر بات چیت کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔ جاسم الدین نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے تسلسل کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب پاکستانی وزیر خارجہ 27 اور 28 اپریل کو بنگلہ دیش کا دورہ کریں گے۔ 2012 کے بعد یہ کسی پاکستانی وزیر خارجہ کا بنگلہ دیش کا پہلا دورہ ہو گا۔پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں ان معاملات کا ذکر موجود نہیں ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ’فریقین نے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، تعلیمی اور سٹریٹجک (تزویراتی) تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔‘اعلامیے کے مطابق ’فریقین نے باقاعدگی سے ادارہ جاتی بات چیت، زیر التوا معاہدوں کو جلد حتمی شکل دینے اور تجارت، زراعت، تعلیم اور رابطوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ پاکستان کی جانب سے اپنی زرعی یونیورسٹیوں میں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی پیشکش کی جبکہ بنگلہ دیش کی جانب سے بھی ماہی گیری اور میری ٹائم سٹڈیز میں تکنیکی تربیت فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی۔‘اس کے علاوہ دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق ’فریقین نے دونوں مُمالک کے درمیان رابطے کو اہم قرار دیتے ہوئے کراچی اور چٹاگانگ کے درمیان براہ راست شپنگ کے آغاز کا خیرمقدم کیا اور براہ راست فضائی روابط کی بحالی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے سیکرٹری خارجہ محمد جاشم الدین نے سفر اور ویزا کی سہولت کو آسان بنانے میں پیش رفت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔‘’کثیر الجہتی امور پر فریقین نے سارک کو اس کے بنیادی اصولوں کے مطابق بحال کرنے کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ سیکرٹری خارجہ نے بنگلہ دیشی قیادت کے وژن کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ سارک کا عمل دوطرفہ سیاسی مصلحتوں سے دور رہے گا۔‘’پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے بنگلہ دیشی فریق کو انڈیا کے غیر قانونی طور پر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع کے جلد حل کی ضرورت پر زور دیا۔‘سیکرٹری خارجہ نے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس اور مشیر خارجہ محمد توحید حسین سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ملاقات میں علاقائی انضمام، اقتصادی روابط اور دوطرفہ تعلقات کو بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھنے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیایاد رہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان خارجہ سیکرٹری کی سطح پر آخری ملاقات شیخ حسینہ کی حکومت کے پہلے دور میں 2010 میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں بتدریج کمی دیکھنے میں آئی۔پاکستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان نے بنگلہ دیش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس کو بتایا کہ اسلام آباد ڈھاکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے میں خاص دلچسپی رکھتا ہے۔


