پاکستان کا پانی روکنا جنگ تصور کیا جائے گا، شہباز شریف کے زیر صدارت اعلی سطح اجلاس میں اعلان
ویب ڈیسک : وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت کی جانب سے سندھ تاس معاہدے کی معطلی کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا پانی روکنا جنگ تصور کیا جائے گا۔ڈان نیوز کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد بھارت کے یک طرفہ جارحانہ اقدامات پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس اختتام کو پہنچ گیا جس کا اعلامیہ بھی جاری کردیاگیا ہے۔ڈان نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں تینوں سروسز چیفس، نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے علاوہ وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان خان، وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری توقیر شاہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی نے شرکت کی ۔اجلاس میں پہلگام ڈرامے کے بعد پیدا ہونے والی داخلی و خارجی صورتحال اور بھارت کے عجلت میں اٹھائے گئے ناقابل عمل آبی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی یا منسوخی کے خلاف مختلف آپشنز پر غور اور شملہ معاہدے سمیت بھارت کے ساتھ تمام دوطرفہ معاہدوں کا بھی ازسرِنو جائزہ لیاگیا جبکہ بھارتی کمرشل پروازوں کے لیے فضائی حدود کی بندش بھی زیر غور آئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزارت خارجہ کی جانب سے بھارتی یکطرفہ اقدامات کے خلاف تجاویز پیش کی گئیں، بھارتی یکطرفہ اقدامات پر مؤثر اور قانونی ردعمل تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ منسوخ یا معطل کرنے کے حوالے سے مختلف آپشن پر غور کیا گیا جن میں اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کرنا، عالمی عدالت انصاف سے رجوع یا ورلڈ بینک سے ثالثی کرانا شامل ہے۔اجلاس میں بھارتی کمرشل پروازوں کےلیے پاکستانی فضائی حدود بند کرنے پر بھی غور کیا گیا، اس فیصلے سے بھارتی فضائی آپریشن مشکلات کا شکار ہوگا، پاکستان کی جانب سے 2019 میں بھی یہ قدم اٹھایا گیا تھا۔


