آسلام آبادپولیس کا قائداعظم یونیورسٹی کے ہاسٹلز خالی کروانے کے لیےآپریشن ، 70 سے زائد طلبا گرفتار

ویب ڈیسک : اسلام آباد پولیس نے اپنے ایک بیان میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’یونیورسٹی انتظامیہ کی درخواست پر اسلام آباد پولیس کی طرف سے قانونی طور پر پولیس اسسٹنس مہیا کی گئی‘۔پولیس کے مطابق ’طلبہ 11 ہاسٹل خالی کرچکے تھے جب کہ باقی 4 ہاسٹلز کے حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان ہاسٹلز میں کچھ طلبہ یونیورسٹی انتظامیہ کے کہنے پر بھی خالی نہیں کررہے ہیں اور غیر قانونی طور پر مقیم ہیں‘۔کپیٹل پولیس نے مزید بتایا کہ ’قائد اعظم یونیورسٹی انتظامیہ کی تحریری درخواست پر یونیورسٹی انتظامیہ اور سکیورٹی گارڈز کی مدد کی گئی، جن سٹوڈنٹس نے اس پُر امن عمل میں رزسٹ کیا ان کو ہاسٹل سے شفٹ کیا گیا ہے اب یونیورسٹی انتظامیہ کی تحریری درخواست پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی‘۔

یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ کہ ڈسٹرک انتظامیہ نے مقررہ مدت ختم ہونےکے بعد آج صبح ہاسٹلز خالی کرانے کے لیےکارروائی کی۔انتطامیہ کے مطابق ’قائداعظم یونیورسٹی نےگرمیوں کی تعطیلات کے دوران سالانہ مرمت اور تزئین و آرائش کے پیش نظر 13 جولائی 2025 سے اپنے ہاسٹلز کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔بیان میں بتایا گیا کہ بڑی تعداد میں طلبہ نے اس فیصلے پر عمل کیا اور ہاسٹلز خالی کیے، تاہم کچھ طلبہ اب بھی وہاں موجود تھے جنہیں یونیورسٹی اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بارہا ہاسٹلز خالی کرنے کے لیے وقت دیا گیا تھا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے طلبہ کی جانب سے انتظامی فیصلے کو چیلنج کرنے کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کر دی، عدالت نے یونیورسٹی کے خودمختاری کے حق کو قائداعظم یونیورسٹی ایکٹ 1973 کے تحت تسلیم کیا ہے۔انتظامیہ کا مزیدکہنا تھا کہ قائداعظم یونیورسٹی ایک بار پھر طلبہ کو محفوظ اور تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے، ساتھ ہی نظم و ضبط، تعلیمی معیار اور ادارہ جاتی خودمختاری کو برقرار رکھے گی۔

پولیس کے بیان کو چیلنج کرتے ہوئے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کس قانون کے تحت سیکرٹریٹ تھانے پر تالے لگائے گئے ہے؟ ہماری وائس چانسلر سے ابھی میٹنگ ہوئی ہے انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی درخواست نہیں دی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ 70 سے زائد طلبہ کو بغیر کسی ایف آئی آر کے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے اور حکام ایف آئی آر کی نقل دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے پولیس کے کریک ڈاؤن کو شرمناک قرار دیتے ہوئے ٹوئیٹ کیا کہ 40 طلبہ کو صرف اس لیے گرفتار کیا گیا کہ وہ امتحانات کی تیاری کے لیے ہاسٹل میں رہنے کی اجازت مانگ رہے تھے، انہیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، جامعات سول سوسائٹی کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔

ماہر تعلیم اور سرگرم کارکن ڈاکٹر تیمور رحمان نے کہا کہ طلبہ سمر سمسٹر شروع کرنے کے لیے احتجاج کر رہے تھے، سوچیں، انہیں صرف اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔

فنکار، ماحولیاتی کارکن اور سماجی رہنما ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے واقعے کے اوپر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان کی جامعات اپنے ہی طلبہ کے خلاف ہو گئی ہیں۔ اسلام آباد میں قائداعظم یونیورسٹی کے 70 طلبہ کو صرف اس مطالبے پر گرفتار کیا گیا کہ ہاسٹلز گرمیوں میں بھی کھلے رکھے جائیں، ہمارے طلبہ اور کیمپس کو محفوظ بنائیں۔سابق وزیرِ انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی اس واقعے کی ایکس پر شدید الفاظ میں مذمت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں