افغان سرحد بند ہونے کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی ہوئی، رپورٹ

ویب ڈیسک : ڈان اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی سالانہ سکیورٹی رپورٹ 2025 کے مطابق دسمبر میں دہشت گرد حملوں میں تقریباً 17 فیصد کمی آئی، جب کہ نومبر میں یہ کمی 9 فیصد تھی۔ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی تشدد سے متعلق ہلاکتوں میں بھی آخری سہ ماہی کے دوران کمی دیکھی گئی، نومبر اور دسمبر میں بالترتیب تقریباً 4 فیصد اور 19 فیصد رہی۔رپورٹ کے مطابق مجموعی تشدد میں تقریباً 34 فیصد اضافے کے ساتھ 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے پرتشدد سال رہا۔ سال بہ سال اضافے کی شرح 2021 میں تقریباً 38 فیصد، 2022 میں 15 فیصد سے زائد، 2023 میں 56 فیصد، 2024 میں قریب 67 فیصد اور 2025 میں 34 فیصد رہی۔2024 اور 2025 کے تقابلی اعداد و شمار کے مطابق دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی سے جڑے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا، جہاں ہلاکتیں 2024 میں 2555 سے بڑھ کر 2025 میں 3417 ہو گئیں، یعنی 862 اموات کا اضافہ ہوا۔سب سے زیادہ اضافہ خیبر پختونخوا میں ریکارڈ ہوا، جہاں ہلاکتیں 2024 میں 1620 سے بڑھ کر 2025 میں 2331 ہو گئیں، جو قومی سطح پر اضافے کا 82 فیصد سے زائد اور صوبے میں تقریباً 44 فیصد سالانہ اضافہ بنتا ہے۔ بلوچستان میں بھی ہلاکتیں 787 سے بڑھ کر 956 ہوئیں، یعنی 169 اضافی اموات ہوئیں۔تشدد کا زیادہ تر بوجھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان پر رہا، جہاں 2025 میں مجموعی ہلاکتوں کا 96 فیصد سے زائد اور پرتشدد واقعات کا تقریباً 93 فیصد ریکارڈ ہوا۔ پنجاب اور سندھ میں تشدد کی سطح نسبتاً کم رہی، جب کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں واقعات کم مگر زخمیوں کی تعداد نسبتاً زیادہ تھی۔گلگت بلتستان سب سے کم متاثرہ علاقہ رہا، تاہم وہاں بھی ہلاکتوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں اضافہ ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں