موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ نہیں، عالمی ممالک سے وسائل و معدنیات کے معاہدوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، اچکزئی

اسلام آباد ( پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں دو روزہ کل جماعتی کانفرنس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہم سب ایک مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں اور وہ مقصد آئین کی بالادستی، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی اور عوام کے چوری شدہ مینڈیٹ کی بازیابی ہے۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، 8 فروری کو راتوں رات زور و زر کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو چھینا گیا اور جس نے زیادہ بولی لگائی اُس کے نام کے سامنے ٹِک مارک لگا کر کامیاب قرار دیا گیا۔ اس کے بعد پورے ریاستی نظام کی منڈی لگی اور ضمیر سے لے کر سرکاری نوکریاں اور عوامی وسائل تک سب کچھ برائے فروخت پیش کیا گیا۔پاکستان بنے ہوئے 78 سال ہو چکے ہیں لیکن یہاں کی قومیتیں ہزاروں سالوں سے آباد ہیں۔ یہ فیڈریشن ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے اور اس کی بنیاد آئین ہے، جو ایک عمرانی معاہدہ ہے، لیکن آج آئین کو عضوِ معطل بنا کر رکھا گیا ہے۔تجربہ کار سیاستدان محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک بننے کے بعد نئی آئین ساز اسمبلی کے لیے انتخابات ہوتے اور وہ ایک متفقہ آئین بناتی، لیکن نئی نئی اصطلاحات ایجاد کرکے مختلف توجیہات نکالی گئیں، اور بات ”پیریٹی” اور ”ون یونٹ” تک پہنچی، جس کا نتیجہ ملک کے ٹوٹنے کی صورت میں نکلا۔ستم ظریفی یہ ہے کہ یہاں طاقتور غیر جمہوری قوتوں نے آئین کو صرف زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی کاغذ کا ایک ٹکڑا سمجھا ہے۔ ایک سیاسی جماعت (پی ٹی آئی) سے عدالت کے ذریعے انتخابی نشان چھین کر الیکشن سے پہلے ہی اُس کے مینڈیٹ کو چوری کرنے کی سازش کی گئی۔ لیکن جب عوام نے 8 فروری کے دن سینکڑوں انتخابی نشانوں کے باوجود پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کے حق میں ووٹ ڈالے، تو 9 فروری کی رات بندوق کے زور پر اُن کا مینڈیٹ چھین لیا گیا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک طرف 45 فیصد عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، تو دوسری طرف بدعنوانی اور کرپشن کا راج ہے۔ لاقانونیت اور کرپشن کی وجہ سے ادارے مفلوج ہو کر گر رہے ہیں۔ اگر کسی کو ملک عزیز ہے تو اُسے اپنے عوام پر بھروسہ کرنا ہوگا، امن و انصاف قائم کرنا ہوگااور قومیتوں کو اُن کے وسائل پر حق اور سیاسی و معاشی خودمختاری دینی ہوگی۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جن علاقوں میں قیمتی قدرتی وسائل اور معدنیات موجود ہیں، وہاں طاقتور ریاستی ادارے ان کا استحصال کر رہے ہیں، لیکن ان علاقوں مثلاً خیبر پشتونخوا کا کرک اور بلوچ پشتون صوبے بلوچستان میں پینے کے پانی تک کی سہولت میسر نہیں اور ستم پر ستم یہ ہے کہ ان علاقوں میں فضاء سے بمباری اور زمین سے گولہ باری کی جا رہی ہے۔ تیراہ کے نہتے عوام اور باجوڑ کے معصوم بچوں کا کیا قصور تھا جنہیں گولیوں سے چھلنی کیا گیا؟لیکن وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپوزیشن کو ایک نجی ہوٹل میں کانفرنس کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے قائد اور ہزاروں کارکنان بے گناہ جیلوں میں ڈالے گئے ہیں۔ آئے روز اس کے منتخب نمائندے مختلف بہانوں سے نااہل قرار دیے جا رہے ہیں۔ خطے میں بین الاقوامی قوتیں اپنی سیاسی و معاشی بالادستی کے لیے پراکسی جنگ کے تناظر میں نئی صف بندیاں کر رہی ہیں، جو اس خطے کی سیاسی قوتوں اور حکمرانوں کے لیے ایک سنجیدہ امتحان ہیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس صورتحال سے ملک کو نکالنے کے لیے، آئین اور جمہوریت کی بحالی و بالادستی کے لیے تمام جمہوری قوتوں اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ متحد ہو کر ایک نئی متفقہ چارٹر اور عمرانی معاہدہ مرتب کریں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ موجودہ وزیراعظم — جو چوری شدہ مینڈیٹ کے ذریعے اس منصب پر براجمان ہیں جہاں بھی جائیں، ہمیں اُن کا استقبال کالے جھنڈوں سے کرنا چاہیے۔انہوں نے عالمی طاقتوں کو خبردار کیا کہ موجودہ حکومت عوام کی اصل نمائندہ نہیں، لہٰذا اس کے کسی بھی معاہدے، خصوصاً وسائل و معدنیات کے حوالے سے، کوئی قانونی حیثیت نہیں۔کانفرنس کے پہلے روز اپوزیشن جماعتوں، وکلا، میڈیا کی شخصیات و نمائندوں اور دیگر تنظیموں کے وفود نے شرکت اور بعض اکابرین نے خطاب کیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں