ہائیکورٹ نے پائلٹ کے لائسنس کی معطلی کی کارروائی پرعملدرآمد روکنے کاحکم
لاہور:لاہور ہائیکورٹ نے پائلٹ کے لائسنس کی معطلی کی کارروائی پرعملدرآمد روکنے کاحکم دیتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ اتنے عرصے سے جہاز اڑانے والے پائلٹس کو اچانک جعلی قرار دے دیا گیا، وفاقی وزیر کے بیان نے پاکستان کا پوری دنیا میں مذاق بنا دیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے پائلٹ عمرسلیم کی درخواست پرسماعت کی۔جسٹس جواد حسن نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ وفاقی وزیرکے بیان سے ملک کا عالمی سطح پر نقصان ہوا، سول ایوی ایشن اپنی غلطیوں کا ملبہ کسی اور پرڈال رہی ہے، اگرلائسنس جاری کئے گئے تو پھر بغیر کسی غلطی کے کیسے معطل کرسکتے ہیں، بتایا جائے لائسنس معطل کرنے والی اتھارٹی کیسے اپیل سن سکتی ہے؟۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ پی آئی اے میں 2006ء سے ملازمت کررہا ہے، 2013ء میں پائلٹ کا لائسنس ملا، ڈی جی سول ایوی ایشن نے موقف سنے بغیر10جولائی 2020ء کو خلاف قانون لائسنس معطل کردیا، ڈی جی اتھارٹی کو آئین پاکستان کے برعکس اپیل سننے کا اختیار بھی دے دیا گیا۔رولزکے مطابق محکمانہ سزا دینے والا افسر اپیل سننے کا اختیار نہیں رکھتا، دوران ڈیوٹی لائسنس کی پانچ بار تجدید کی گئی، درخواست گزار کا لائسنس 2024ء تک تجدید شدہ ہے، ہائیکورٹ کے دومختلف سنگل بنچ اسی نوعیت کے کیس میں حکم امتناعی دے چکے ہیں، ستدعا ہے کہ عدالت درخواست گزار کا پائلٹ لائسنس معطل کرنے کا اقدام کالعدم اورحتمی فیصلے تک لائسنس معطلی کا حکم معطل کرنے کا بھی حکم دے۔عدالت نے سول ایوی ایشن کی جانب سے درخواست گزار پائلٹ کودیا گیا نوٹس معطل کردیا، عدالت نے ایوی ایشن اتھارٹی سے درخواست گزار کا لائنس معطل کرنے کی وجوہات بارے جواب طلب کرلیا۔


