پاکستان کی جانب سے افغانوں کی زبردستی ملک بدری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اقوام متحدہ

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے مقررہ تاریخ سے قبل ہی افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل شروع کر دیا ہے، جس سے ایک اندازے کے مطابق 10 لاکھ سے زائد افغان باشندوں کو پاکستان سے نکالا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام وزارت داخلہ کے 31 جولائی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ پی او آر کارڈ ہولڈرز، جو کہ پاکستان میں بغیر ویزا قانونی طور پر مقیم آخری افغان باشندے تھے، 30 جون کو کارڈز کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی رہائشی تصور کیے جائیں گے۔ تاہم وفاقی حکومت نے صوبوں کو مطلع کر دیا ہے کہ 13 لاکھ سے زائد پی او آر کارڈ ہولڈرز افغان مہاجرین کی باضابطہ واپسی اور ملک بدری کا عمل یکم ستمبر سے شروع کیا جائے گا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ اسے ملک بھر میں قانونی طور پر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی گرفتاریوں اور ملک بدری کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، حالانکہ ا±ن کے انخلا کی آخری تاریخ ابھی نہیں آئی۔ یو این ایچ سی آر نے کہا کہ افغانوں کو اس طرح زبردستی واپس بھیجنا پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یو این ایچ سی آر حکومت پاکستان سے زبردستی ملک بدری بند کرنے اور افغانوں کی واپسی کو رضاکارانہ، تدریجی اور باوقار بنانے کے لیے ایک انسان دوست طرز عمل اختیار کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں