کوئٹہ میں ڈبل سواری پر پابندی سے شہری پریشان
کوئٹہ (آن لائن) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ایک پریس ریلیز میں اس امر پرسخت افسوس اور مزمت کا اظہار کیاگیا کہ ظلم کرپشن اور اندھیر نگری کا بھی کوئی حد ہوتا ہے لیکن کوئیٹہ شہر کے عوام کے ساتھ پولیس انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کے اعلی سے اعلی آفیسر سے لیکر پھر ایک سپاہی تک نے بغیر نمبر پلیٹ اور ڈبل سواری کے نام پر 15 دن سے جو بربریت اور ناجائز ڈرامے شروع کر رکھے ہے ہم سمجھتے ہے کہ خدا کی قسم خون دل کے آنسو اور ان محکمے کے خلاف بغاوت کرنے کا دل کرتا ہے نہ انسانیت کا ناطہ اور نہ اللہ اور اس کے رسول کا واسطہ ان پولیس والوں کے سامنے کوئی معنی رکھتی ہے بغیر نمبر فلیٹ والے کو بند کرنا تو جائز ہے لیکن ڈبل سواری کرنے والے کو بھی حوالات میں اور موٹر سائیکل بھی 550 میں بند کر دیا جاتا ہے آپ گھنٹہ بعد کاغذات لاکر دکھاو تو کاغذات بھی لیتے ہے اور کہتے ہے کہ موٹر سائیکل 550 میں چالان ہوگیا ہے اب آپ پہلے تھانے سے پھر ایکسائز سے پھر سی سی پی او افس سے پھر سی آءاے اور پھر 30 ہزار روپے عدالت سے ضمانت دے کرعدالت سے ضمانت کروا کے اپنا مسئلہ حل کروالے تو یہ ہے تھانوں میں بیٹھے پولیس والوں کی مہربانی پہلے ایکسائز میں ایک دستخط کے 1000 روپے رشوت اس کے بعد عدالتوں کے چکر اور وکیلوں کی فیس ہاں اگر پہلے چکر میں تھانہ میں 2000 روپے ڈپٹی آفیسر کے ہاتھ پر رکھ دو تو کام ہو گیا ہم یہ سب کچھ دیکھتے بھی سنتے بھی ہے اور برداشت بھی کرتے ہے لیکن ہمیشہ پولیس انتظامیہ کے ساتھ ہر ہر لمحہ اور ہر ہر محاذ پر ہمیشہ ہر تعاون کہلیے تیار رہتے ہے لیکن افسوس صد افسوس کوئٹہ پولیس اور ٹریفک پولیس ۔
œ¢£…¦ Ÿ¤¡ Œ‚ž ’¢Ž¤ œŽ ¥ ¢ž¥ œ¢ ‰¢ž„ Ÿ¤¡ ¢Ž Ÿ¢…Ž ’£¤œž550 Ÿ¤¡ ‚ ‹ œŽ ‹¤ ‡„ ¦¥ í„ —¤Ÿ „‡Ž
œ¢£…¦ â³ ž£ á ŸŽœ¤ „ —¤Ÿ „‡Ž ‚ž¢ˆ’„ œ¥ ¤œ ƒŽ¤’ ޤž¤ Ÿ¤¡ ’ ŸŽ ƒŽ’Š„ š’¢’ ¢Ž ŸŸ„ œ —¦Ž œ¤¤ œ¦ —žŸ œŽƒ“ ¢Ž ‹§¤Ž ޤ œ ‚§¤ œ¢£¤ ‰‹ ¦¢„ ¦¥ ž¤œ œ¢£¤…¦ “¦Ž œ¥ ˜¢Ÿ œ¥ ’„§ ƒ¢ž¤’ „—Ÿ¤¦ ¢Ž …Ž¤šœ ƒ¢ž¤’ œ¥ ˜ž¤ ’¥ ˜ž¤ Èš¤’Ž ’¥ ž¤œŽ ƒ§Ž ¤œ ’ƒ¦¤ „œ ¥ ‚™¤Ž Ÿ‚Ž ƒž¤… ¢Ž Œ‚ž ’¢Ž¤ œ¥ Ÿ ƒŽ 15 ‹ ’¥ ‡¢ ‚ނޤ„ ¢Ž ‡£ ŒŽŸ¥ “Ž¢˜ œŽ Žœ§¥ ¦¥ ¦Ÿ ’Ÿ‡§„¥ ¦¥ œ¦ Š‹ œ¤ ›’Ÿ Š¢ ‹ž œ¥ È ’¢ ¢Ž Ÿ‰œŸ¥ œ¥ Šžš ‚™¢„ œŽ ¥ œ ‹ž œŽ„ ¦¥ ¦ ’ ¤„ œ –¦ ¢Ž ¦ žž¦ ¢Ž ’ œ¥ Ž’¢ž œ ¢’–¦ ƒ¢ž¤’ ¢ž¢¡ œ¥ ’Ÿ ¥ œ¢£¤ Ÿ˜ ¤ Žœ§„¤ ¦¥ ‚™¤Ž Ÿ‚Ž šž¤… ¢ž¥ œ¢ ‚ ‹ œŽ „¢ ‡£ ¦¥ ž¤œ Œ‚ž ’¢Ž¤ œŽ ¥ ¢ž¥ œ¢ ‚§¤ ‰¢ž„ Ÿ¤¡ ¢Ž Ÿ¢…Ž ’£¤œž ‚§¤ 550 Ÿ¤¡ ‚ ‹ œŽ ‹¤ ‡„ ¦¥ ȃ § …¦ ‚˜‹ œ™„ žœŽ ‹œ§¢ „¢ œ™„ ‚§¤ ž¤„¥ ¦¥ ¢Ž œ¦„¥ ¦¥ œ¦ Ÿ¢…Ž ’£¤œž 550 Ÿ¤¡ ˆž ¦¢¤ ¦¥ ‚ ȃ ƒ¦ž¥ „§ ¥ ’¥ ƒ§Ž ¤œ’£ ’¥ ƒ§Ž ’¤ ’¤ ƒ¤ ¢ š’ ’¥ ƒ§Ž ’¤ È£ ¥ ¢Ž ƒ§Ž 30 ¦Ž Ž¢ƒ¥ ˜‹ž„ ’¥ •Ÿ „ ‹¥ œŽ˜‹ž„ ’¥ •Ÿ „ œŽ¢ œ¥ ƒ Ÿ’£ž¦ ‰ž œŽ¢ž¥ „¢ ¤¦ ¦¥ „§ ¢¡ Ÿ¤¡ ‚¤…§¥ ƒ¢ž¤’ ¢ž¢¡ œ¤ Ÿ¦Ž‚ ¤ ƒ¦ž¥ ¤œ’£ Ÿ¤¡ ¤œ ‹’„Š– œ¥ 1000 Ž¢ƒ¥ Ž“¢„ ’ œ¥ ‚˜‹ ˜‹ž„¢¡ œ¥ ˆœŽ ¢Ž ¢œ¤ž¢¡ œ¤ 𤒠¦¡ Ž ƒ¦ž¥ ˆœŽ Ÿ¤¡ „§ ¦ Ÿ¤¡ 2000 Ž¢ƒ¥ Œƒ…¤ Èš¤’Ž œ¥ ¦„§ ƒŽ Žœ§ ‹¢ „¢ œŸ ¦¢ ¤ ¦Ÿ ¤¦ ’‚ œˆ§ ‹¤œ§„¥ ‚§¤ ’ „¥ ‚§¤ ¦¥ ¢Ž ‚Ž‹“„ ‚§¤ œŽ„¥ ¦¥ ž¤œ ¦Ÿ¤“¦ ƒ¢ž¤’ „—Ÿ¤¦ œ¥ ’„§ ¦Ž ¦Ž žŸ‰¦ ¢Ž ¦Ž ¦Ž Ÿ‰ ƒŽ ¦Ÿ¤“¦ ¦Ž „˜¢ œ¦ž¤¥ „¤Ž ަ„¥ ¦¥ ž¤œ š’¢’ ”‹ š’¢’ œ¢£…¦ ƒ¢ž¤’ ¢Ž …Ž¤šœ ƒ¢ž¤’ ó


