مختلف شعبوں میں ہزاروں ارب روپے کی کرپشن، حکومت کو جواب دینا ہوگا، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار

کوئٹہ (این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان کے مالی اور معاشی مسائل کا اصل سبب مالی وسائل کا بہت بڑے پیمانے پر کرپشن کی نذر ہوجانا ہے اس ناسور کے خاتمے کے دعوے تو ہر دور میں کیے جاتے رہے لیکن کرپشن کے ناسور کا پھیلاو کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی چلا گیاصرف بجلی کے شعبے میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں ، چوری اور غبن کے کے اعداد و شمار انتہائی افسوسناک اور حیران کن ہیں. تمام سرکاری اداروں میں مجموعی طور پر عوام کے ٹیکسوں اور بھاری مقامی اور بیرونی قرضوں سے فراہم کردہ وسائل بہت بڑے پیمانے پر سرکاری مشینری کے چوروں اور لٹیروں کی ہوس زر کی بھینٹ چڑھ رہے ہیںحال ہی میں آڈیٹر جنرل نے 4800 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے اس صورتحال نے بجلی کے شعبے میں گورننس کے سنگین بحران کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوارسینیٹر محمد عبدالقادر نے مزید کہا ہے کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ مالی سال 2023-24 کا احاطہ کرتی ہے اور اسے جلد ہی پبلک اکا¶نٹس کمیٹی میں پیش کیا جائے گا قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرنے اور معاہدوں کے ناقص انتظام کے نتیجے میں مالی وسائل کا بڑا حصہ بد انتظامی اور متعدد معاملات میں کھلے عام چوری کی نذر ہورہا ہے 6 کیسز میں 2,212.95 ملین روپے مالیت کی چوری، غبن اور خرد برد، 86 کیسز میں 156,141.88 ملین روپے کی خریداری یامعاہداتی بے ضابطگیوں اور77 کیسز میں ادارہ جاتی قواعد کی خلاف ورزی کی نشان دہی کی گئی ہے جن کی مالیت 507,242.82 ملین روپے ہے۔ 90 کیسز میں وزارت توانائی، وزارت خزانہ، کابینہ ڈویڑن، ایکنک، اے جی پی اور نیپرا کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں جن کی مالیت 957,751.65 ملین روپے ہے کرپشن کے حوالے سے صورتحال کی بنا پر پورے سرکاری نظام میں مکمل شفافیت اور ڈیجیٹائزیشن کا اہتمام اور ہر سطح پر صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ ناگزیر ہے ہر شعبے کے وزیر یا انچارج سے متعلقہ شعبے کی کارکردگی اور کرپشن کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ لی جائے از بریفنگ کو پبلک کیا جائے اور کسی قسم کی بے ضابطگی کا براہ راست متعلقہ وزیر یا انچارج کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے جب تک ایک ایک شعبے کی تہہ تک جانچ نہیں کی جائے گی کرپشن کے ناسور سے نجات حاصل کرنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں