خضدار کے راستے سندھ اور پنجاب کیلئے اسمگلنگ جاری، فی گاڑی لاکھوں روپے وصول کیے جانے لگے

خضدار (آن لائن) حکومت بلوچستان کی اسمگلنگ کے روک تھام کے دعوے کی قلعی کھل گئی۔ خضدار اسمگلنگ کا مرکز بن گیا۔ خضدار سے چھالیہ اور ایرانی تیل کی اسمگلنگ سندھ اور پنجاب کی جانب سے دو شاہراہوں سے شروع۔ خضدار سے کراچی کےلیے پیرو عمر ایریا سے کچے راستوں کا انتخاب جبکہ اندرون سندھ کی جانب خضدار ٹو رتوڈیرو شاہراہ استعمال ہوتی ہے۔ خضدار سے براستہ ونگو مبینہ طور پر فی گاڑی سے نو لاکھ روپے جبکہ خضدار سے براستہ سارونہ چار لاکھ بیس ہزار روپے لائن کے نام پر بھتہ جمع کیا جاتا ہے۔ کوئٹہ اور گوادر سے بذریعہ این اے 25، کراچی کی جانب ایرانی تیل چھالیہ اور منشیات کی اسمگلنگ کی راہ میں کوسٹ گارڈ کا حائل ہونے کے بعد اسمگلرز نے نئے راستے ڈھونڈ لئے۔ انتہائی اہم ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے چھالیہ، سگریٹ اور منشیات جبکہ تربت اور گوادر سے ایرانی تیل خضدار میں ڈمپ ہوجاتے ہیں۔ بعد ازاں خضدار سے بڑی دس وہیلرز گاڑیوں، بائیک میں تیل، چھالیہ اور سگریٹ ودیگر غیرقانونی نشہ آور چیزیں لوڈ ہوجاتی ہیں۔ خضدار سے براستہ رتوڈیرو مبینہ طور پر زیادہ تر ایرانی تیل اور سگریٹ کی اسمگلنگ ہوتی ہے جبکہ خضدار سے براستہ سارونہ چھالیہ اور منشیات اسمگلنگ ہوتی ہیں۔ خضدار سے اندرون سندھ کی جانب جھل مگسی حدود تک کا ہرگاڑی سے لائن بھتہ نو لاکھ روپے جبکہ خضدار سے کراچی کی جانب سے براستہ سارونہ ہر گاڑی سے خضدار ڈسٹرکٹ کا چار لاکھ بیس ہزار روپے لیا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں نے وزیراعظم پاکستان، آرمی چیف، وزیراعلیٰ بلوچستان، کورکمانڈر بلوچستان اور دیگر حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں