بلوچستان کے تعلیمی نصاب میں غیر ضروری تبدیلیوں، کتابوں کے ناقص معیار پر طلبہ، اساتذہ اور والدین پریشان
دالبندین (این این آئی) بلوچستان کے تعلیمی نظام میں گزشتہ ادوار کی جانب سے کی گئی نصاب میں غیر ضروری تبدیلیوں اور کتابوں کے ناقص معیار نے طلباء، والدین اور اساتذہ کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔والدین کا کہنا ہے کہ پہلی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک کے نصاب میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں۔ بچوں کو اردو اچھی طرح پڑھنا بھی نہیں آتا، مگر ان کے نصاب میں مشکل انگریزی مضامین شامل کردیئے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے نہ صرف طلباء و طالبات بلکہ اساتذہ بھی تدریسی عمل کے دوران مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ اساتذہ کی ٹریننگ کے باوجود یہ نصاب بچوں کے لیے بوجھ اور سمجھ سے بالاتر ثابت ہورہا ہے۔اسی کے ساتھ نصابی کتابوں کے میٹریل کا معیار بھی ناقص ہے۔ کتابوں میں انتہائی کمزور کاغذ استعمال کیا گیا ہے جو پورا سال چلنے کے بجائے ایک یا دو ماہ میں ہی پھٹ کر صفحات الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کے لیے بار بار کتابیں ڈھونڈنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، جبکہ بچے اور بچیاں اس صورتحال سے ذہنی دباو¿ کا شکار ہیں۔شہریوں نے محکمہ تعلیم بلوچستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کتابوں کے لیے اعلیٰ معیار کا کاغذ استعمال کیا جائے، اور پرنٹنگ کے ٹھیکیداروں کو پابند بنایا جائے کہ وہ کتابوں کے کور مضبوط اور اندرونی صفحات معیاری رکھیں تاکہ ایک کتاب کم از کم پورے تعلیمی سال تک استعمال کے قابل ہو۔عوامی حلقوں نے مزید کہا کہ نصاب کو آسان بنایا جائے اور موجودہ دور کی مشکل اور بھاری کتابوں کے بجائے پرانے نصاب کو بحال کیا جائے تاکہ طلباء و طالبات بہتر انداز میں تعلیم حاصل کرسکیں۔ ایک عام مثال یہ ہے کہ موجودہ دور میں پانچویں اور چھٹی جماعت کے بچے بھی نصاب کی مشکل کتابیں سمجھنے سے قاصر ہیں، ایسے میں ان پر بوجھ ڈالنا ان کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔والدین، اور عوامی حلقوں نے زور دیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سے قبل رائج نصاب کو دوبارہ متعارف کرایا جائے اور کتابوں کے معیار کو بہتر بنا کر بلوچستان کے لاکھوں بچوں کا مستقبل محفوظ کیا جائے۔


