جھالاوان میں بچیوں کیساتھ زیادتی اور عصمت دری معمول بنتا جارہا ہے، میر عبدالرﺅف مینگل
خضدار (آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سابق ایم این اے میر عبدالرﺅف مینگل نے اپنے جاری کردہ مذمتی بیان میں کہا ہے کہ خضدار میں آئے روز بچیوں کی عصمت دری بلوچ روایات کے برعکس ہے۔ ان جیسے غیر اخلاقی حرکات کی نہ بلوچ معاشرہ، نہ ہمارا مذہب اسلام، اور نہ ہی ہمارے روایات اجازت دیتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب بلوچوں کی غیرت کے چرچے مشہور تھے لیکن افسوس آج بلوچ بچیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی، بلوچ بچیوں کی عصمت دری رواج بنتا جارہا ہے۔ خضدار کی سرزمین پر صغریٰ بی بی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دل دہلانا والا واقعہ ہے۔ ان جیسے غیر اخلاق، بد تہذیبی حرکات کو اگر لگام نہیں دیا گیا تو آنے والے وقتوں میں ظالم مزید طاقتور ہوکر مظلوم بچیوں کے ساتھ دیدہ دلیری سے زیادتی کرتے رہیں گے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارا معاشرہ بے بس ہوکر خاموشی اختیار کرچکا ہے۔ کیا ہمارے روایات مر گئے کیا ہمارا معاشرہ اب مردہ ہوگیا ہے کہ مظلوم بچیوں کے ساتھ زیادتی پر آج جھالاوان خاموش ہے۔ آج یہ ایک صغری بلوچ کے ساتھ واقعہ پیش آئی اگر اس طرح مزید خاموشی اختیار کیا گیا تو آنے والے وقتوں میں اس طرح کے واقعات رواج بنتے جائینگے۔ بلوچ ہمیشہ سے روایات کے امین رہے ہیں۔ جہاں بھی غیرت کا نام لیا گیا ہے وہام بلوچ کا نام پہلے آچکا ہے۔ لیکن آج دل دہلانے والا واقعے پر خاموشی سمجھ سے باہر ہے۔ میر عبدالروف مینگل نے ضلعی انتظامیہ کے اقدام کو سراہا کہ انتظامیہ نے چند گھنٹوں میں ملزمان کو گرفتار کیا۔ اور امید ظاہر کی ہے کہ ملزمان قانون سمیت بلوچی روایات کے شکنجے سے آزاد نہیں ہونگے۔


