گوادر فری زون میں مقامی ملازمین کی تنخواہیں روک دی گئیں

گوادر (بیورو رپورٹ) فری زون میں مقامی ملازمین کی تنخواہیں غیر معینہ مدت تک روک دی گئیں۔ گوادر فری زون کی انتظامیہ نے اپنے مقامی ملازمین کی تنخواہیں غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے، اور اس حوالے سے ادائیگیوں کی بحالی کے بارے میں کوئی ضمانت یا ٹائم لائن نہیں دی گئی۔ اس اقدام نے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے ایک اہم جزو، اس منصوبے کے مالی استحکام کے بارے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ملازمین کے مطابق، کمپنی نے انہیں بتایا ہے کہ فی الحال تنخواہیں جاری نہیں کی جا سکتیں اور نہ ہی یہ یقین دہانی کرائی جا سکتی ہے کہ باقاعدہ ادائیگیاں کب دوبارہ شروع ہوں گی۔ اس غیر یقینی صورتحال نے ملازمین میں مایوسی اور کمیونٹی میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں فری زون کو گوادر کے معاشی مستقبل کا سنگ بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واضح ٹائم لائن کی کمی گہرے مالی مسائل کی عکاسی کرتی ہے اور فری زون کے آپریشنز پر اعتماد کو کم کر سکتی ہے۔ ناقدین کا مو¿قف ہے کہ اس طرح کی پیش رفت گوادر میں سی پیک منصوبوں کے طویل المدتی استحکام کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔ مقامی نمائندوں نے چینی حکام اور سی پیک کے عہدیداروں سے اس معاملے کو فوری طور پر حل کرنے کی اپیل کی ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ تنخواہوں کی معطلی نہ صرف خاندانوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ شہر کے لیے وسیع تر ترقی کے وڑن پر بھی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا خطرہ ہے۔ گوادر فری زون کا آغاز تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے وعدے کے ساتھ کیا گیا تھا۔ تاہم، بغیر کسی ضمانت کے تنخواہوں کی حالیہ معطلی نے بندرگاہی شہر میں ترقی کی رفتار کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں