ہمارے اتحادی محمود خان اچکزئی ایک امن وفد لے کر افغانستان جائیں اور بات چیت سے مسائل کا حل تلاش کریں، عمران خان

ویب ڈیسک : پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات جان بوجھ کر بگاڑے جا رہے ہیں اور انہیں مسلسل پاکستان سے جنگ شروع کرنے پر اکسایا جا رہا ہے ۔سب سے پہلے افغان حکومت کو سنگین دھمکیاں دی گئیں، پھر مذہبی، اخلاقی اور پناہ گزینوں کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین نسلوں سے پاکستان میں مقیم افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے نکالا گیا، اس کے بعد افغانستان کی سرزمین پر حملے کیے گئے اور اب یہ کہہ کر کہ “دہشت گرد آ گئے ہیں” قبائلی علاقوں میں آپریشن لانچ کر دئیے گئے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ ان پالیسیوں کی وجہ سے ہر جانب ہمارے ہی لوگ شہید ہو رہے ہیں- پولیس اہلکار، فوجی اور عام بے گناہ لوگ جو شہید ہو رہے ہیں سب ہمارے اپنے ہیں۔ اس طرز عمل سے کبھی امن قائم نہیں ہوتا، پائیدار امن ہمیشہ بات چیت سے قائم ہوتا ہے۔ اب افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے تین فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی عوام، دوسری افغان حکومت، اور تیسری افغانستان کی عوام- ان تین فریقین کی مدد کے بغیر کوئی کامیاب آپریشن یا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔ خیبر پختونخوا میں جو کچھ کرنے کی کوشش ہے وہ صرف تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنے کے لیے ہے۔ ملٹری آپریشن سے دہشتگردی مزید بڑہے گی اور جب پولیس اسی بڑھتی ہوئی دہشتگردی کو کنٹرول کرنے میں لگے گی تو گورننس اور امن و امان کا بیڑا غرق ہو جائے گا- ایسی ہی پالیسی اے این پی کی حکومت کے دور میں بھی اپنائی گئی تھی۔

خیبر پختونخوا کے تمام ایم پی ایز، ایم این ایز اور سینیٹرز وزیراعلی کے ساتھ بیٹھ کر وہاں کے مسائل کا جلد سے جلد حل نکالیں۔ خصوصی طور پر جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے وہاں امن قائم رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ ہمارے اتحادی محمود خان اچکزئی کی قیادت میں ایک امن وفد لے کر افغانستان جائیں اور وہاں بات چیت سے مسائل کا حل تلاش کریں”

اپنا تبصرہ بھیجیں