بلوچستان کی مرکزی شاہراہوں پر تیل بردار گاڑیوں کی آمدورفت کو ریگولیٹ کر کے سانحات سے بچاﺅ ممکن بنایا جائے، عوامی حلقے

تربت انتخاب نیوز) تربت اور مکران ڈویژن کے عوامی حلقوں نے ایک بار پھر مرکزی شاہراہوں پر خطر تیل بردار گاڑیوں پر پابندی عائد کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں تیل بردار گاڑیوں کی وجہ سے کئی المناک حادثات پیش آئے، جن میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے حادثے میں مکران ڈویژن کے کمشنر اپنی جان کی بازی ہار چکے، جبکہ گزشتہ روز پنجگور میں مسافر بس اور تیل بردار گاڑی کے تصادم کے نتیجے میں دس افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ عوامی حلقوں نے مو¿قف اختیار کیا کہ تیل بردار گاڑیوں کو دن کے اوقات مرکزی شاہراہوں پر چلنے کی اجازت نہ دی جائے، بلکہ ان کے سفر کو رات کے اوقات تک محدود کیا جائے۔ ساتھ ہی تمام مال بردار گاڑیوں کے لیے روڈ پرمٹ، فٹنس سرٹیفکیٹ اور ڈرائیونگ لائسنس کی لازمی چیکنگ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ ضلع کیچ میں محکمہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا عملہ غیر فعال ہے، جسے فوری طور پر بحال کیا جائے اور غیر حاضر ملازمین کو برخاست کیا جائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور کمشنر مکران ڈویژن سے اپیل کی ہے کہ مرکزی شاہراہوں پر حفاظتی اقدامات کو فوری طور پر نافذ کیا جائے اور تیل بردار گاڑیوں کی آمدورفت کو ریگولیٹ کر کے مستقبل کے سانحات سے بچاﺅ ممکن بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں