حب مغربی بائی پاس پر دو رویہ سڑک کی تعمیر، این ایچ اے نے اراضی واگزار کرانے کیلئے حکومت سے مدد مانگ لی

حب (نمائندہ انتخاب) حب مغربی بائی پاس ڈبل ٹریک سڑک کی تعمیرات کیلئے موجودہ سڑک کے کنارے اراضی واہ گزار کرانے کیلئےNHAنے صوبائی حکومت سے مدد مانگ لی جبکہ صوبائی حکومت بورڈ آف ریونیو پہلے ہی حب مغربی بائی پاس سمیت موضع بیروٹ کی 400ایکر اراضی کی بذریعہ بندوبست اراضی کے جاری الاٹمنٹ کا نوٹیفکیشن واپس لی چکی ہے مغربی پاس کے اطراف کی زمینوں کو سرکاری تحویل میں واپس لینے اور وہاں تعمیرات کو ہٹانے کے حوالے سے صوبائی حکومت نے حب انتظامیہ کو آگاہ کردیا موضع بیروٹ اور پیرکس میں لوگوں نے سرکاری زمینیں موروثی بزگر کھاتے کے نام پر الاٹ کرانے کے بعد وہاں پر ا±ن زمینوں کو کمرشلائز کر کے ہاﺅسنگ سوسائٹیز بناکر فروخت کرنا شروع کر رکھا ہے ذرائع بتاتے ہیں چمن کوئٹہ سے حب تک قومی شاہراہ N25کو ڈبل ٹریک بنانے کے حوالے سے NHAنے حب مغربی بائی پاس کی موجودہ سڑک کے اطراف میں سرکاری اراضی کو واہ گزار کرانے کیلئے صوبائی حکومت کو مراسلہ ارسال کیا ہے جس پر صوبائی حکومت نے حب انتظامیہ کو ہدایت دے دی ہے واضح رہے کہ مغربی بائی پاس کے دونوں اطراف میں بااثر لوگوں نے سیٹلمنٹ کے ذریعے سرکاری زمین الاٹ کرائی اور وہاں پر کمرشل بنیادوں پر زمینوں کی مہنگے داموں فروخت کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور اس وقت وہاں پر کئی ہاﺅسنگ سوسائٹیز فارم ہاﺅس تجارتی مارکیٹیں پیٹرول پمپ اور ہوٹل قائم ہیں مغربی بائی پاس کی زمینوں کی الاٹمنٹ کے نوٹیفکیشن سے بورڈ آف ریونیو کی دستبرداری اور زمینوں کو سرکاری کھاتے میں منتقلی کے بعد وہاں پر سرمایہ کاری کرنے اور خرید وفروخت کر کے کروڑوں اربوں روپے کا بزنس کرنے والوں میں حالیہ دنوں پریشانی کی لہر آئی ہوئی ہے ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت نے نہ صرف کاری زمین واہ گزار کرانے اور قومی شاہراہ کو ڈبل ٹریک بنانے کے فیصلے کی روشنی میں نجی زمینوں کو بھی لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت سخت اقدام اٹھانے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے تاہم تشویش ناک بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے اثر ورسوخ سے سرکاری زمین صرف سرکاری فیس او ر مبینہ طور پر اوپر کے لین دین کے عوض زمین اپنے نام الاٹ کرانے کے بعد جن لوگوں کو فروخت کیں اور ان لوگوں نے بھاری سرمایہ کاری کر کے وہاں پر کاروبار شروع کیا انکا سرمایہ ڈوبنے کا خدشات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں