یونیورسٹی آف تربت نے نصاب کو جدید تقاضوں اور ڈیجیٹل مہارتوں سے ہم آہنگ کرانے کی منظوری دیدی

تربت( نمائندہ انتخاب) تربت یونیورسٹی کے شعبہ کامرس کے بورڈ آف اسٹڈیز کا پانچواں اجلاس، ایم ایس کامرس سمیت نئے تعلیمی پروگرامز شروع کرانے اور نصاب کو جدیدتقاضوں اور ڈیجیٹل مہارتوں سے ہم آہنگ کرانے کی منظوری، یونیورسٹی آف تربت کے شعبہ کامرس کے بورڈ آف اسٹڈیز کا پانچواں اجلاس شعبہ کامرس کے چیئرمین ڈاکٹر مشتاق محمد بادینی کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں متعدد اہم تعلیمی معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور اہم کیے گئے ، اجلاس میں ایم ایس کامرس پروگرام کے اجرائ، بی ایس کامرس پروگرام کو ایچ ای سی کے نئے نظرثانی شدہ نصاب کے مطابق ہم آہنگ کرنا اور بی ایس (ای کامرس) میں ایک نئی اسپیشلائزیشن پروگرام شروع کرانے کی منظوری کے علاوہ تین نئے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز، اے ڈی کامرس، اے ڈی اکاو¿نٹنگ اینڈ فنانس اور اے ڈی اسلامی بینکنگ شروع کر انے کی منظوری دی گئی۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق ہیلی کالج آف کامرس یونیورسٹی آف دی پنجاب کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شیخ عثمان یوسف اور NAVTTC کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حسین بخش مگسی نے بطور ایکسٹرنل ممبر ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ تربت یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ کالجوں کے اساتذہ کرام گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج کے لیکچرر عبدالصمد اورگورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت کےلیکچرر فائزہ عزیز کے علاوہ یونیورسٹی آف تربت کے فیکلٹی ممبران ڈاکٹر عبدالماجد ناصر، رحمت اللہ اور ریاض احمد نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور مختلف تعلیمی امور پر اپنی تجاویز پیش کیں۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی قیادت میں یونیورسٹی آف تربت نےاس بات کا تہیہ کر رکھا ہے کہ یونیورسٹی میں جاری اور نئے تمام تعلیمی پروگراموں کے نصاب کو جدید مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے علاوہ مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار پیش رفت اور ابھرتے ہوئے تکنیکی رجحانات کو پیش نظر رکھ کر تمام تعلیمی پروگرامز کو اپ ڈیٹ کرنے کا عمل جاری رکھاجائے گا تاکہ طلبہ کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں اور عصری تقاضوں کے مطابق ٹیکنالوجیکل علم سے مکمل طور پر لیس کیاجاسکے۔ اجلاس کے اختتام پر شعبہ کامرس کے چیئرمین ڈاکٹر مشتاق محمدبادینی نے شعبہ کامرس سمیت پوری یونیورسٹی کی ترقی اور بہتری کے لیے غیر معمولی دلچسپی لینے پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اجلاس میں شریک تمام معزز اراکین کی فعال شرکت، قیمتی تجاویز اور تعمیری آراءکو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی مجموعی ترقی فیکلٹی ممبران ،انتظامی عملے اوریونیورسٹی کے آئینی اداروں کے سربراہان، ممبرز اور ماہرین کی مشترکہ کاوشوں اور باہمی تعاون ہی سے ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں