عوامی حقوق کے تحفظ اور دوٹوک موقف اختیار کرنے کی قیمت میں جمعیت کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سائیڈ لائن کیا گیا، مولانا واسع
کوئٹہ (آن لائن) امیر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ عوامی حقوق کے تحفظ اور دوٹوک موقف اختیار کرنے کی قیمت میں جمعیت علمائے اسلام کو سوچے سمجھے اور مضموم منصوبوں کے تحت سائیڈ لائن کیا گیا۔ صوبے کی سائل و وسائل کے لیے جدوجہد میں جے یو آئی ہمیشہ اولین کردار ادا کرتی رہی ہے، مگر موجودہ جمہوری عمل میں جو کھلواڑ اور تماشہ برپا کیا جا رہا ہے، وہ قوم کے لیے واضح پیغام ہے کہ کس بیانیے کو تقویت دی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی اقتدار کے لیے سیاست نہیں کرتی بلکہ عوامی امنگوں کی حقیقی نمائندگی کی ضامن ہے۔ صوبے کی تاریخ گواہ ہے کہ جس سیاست پر جے یو آئی کاربند رہی، وہی ترقی، خوشحالی اور استحکام کا راستہ بنی۔ آج صوبے کو درپیش تباہ کن حالات کی ذمہ داری کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں، اور سب اپنی جانب سے دامن بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔سینیٹر عبدالواسع نے کہا کہ سیاست میں مداخلت کو فولادی حصار دینے والے یہ بھول نہ جائیں کہ تاریخ ظالم اور مداخلت کار کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ میثاقِ جمہوریت کے دعویدار آج خود جمہوریت کو سبوتاژ کرنے اور آئین کے بنیادی ڈھانچے سے چھیڑ چھاڑ کرنے میں صفِ اول میں کھڑے ہیں۔ عدلیہ کو بھی بیوروکریسی کی طرح ایگزیکٹیو کے تابع بنانے کی کوشش ملک کو پچھلے تیس سال کی حالت میں واپس دھکیلنے کے مترادف ہے۔ آج سیاست کے میدان میں شکست کھانے والے سہاروں کے محتاج بن چکے ہیں، اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول پر نظام چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کا ہر گوشہ جے یو آئی کی کارکردگی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں جے یو آئی ثابت کرے گی کہ عوام کی واحد، حقیقی اور مستند نمائندہ جماعت صرف جے یو آئی ہی ہے۔ انشا اللہ، میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدے جیت کر جے یو آئی عوامی خدمت کے لیے میدانِ عمل میں سینہ تان کر موجود ہوگی، کیونکہ خدمت، دیانت اور امانت ہی اس جماعت کا اصل حلیہ اور پہچان ہے۔کوئٹہ کو کھنڈرات میں بدلنے والے بھی نکلے ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں ہم جیتے گے یہ خواب ہی رئیگا. کوئٹہ جے یو آئی کا گڑھ ہے اور یہ ثابت کریں گے۔


