حقوق مانگنے والے لاپتا اور بہنیں جیلوں میں بند ہیں، حکمران بلوچستان کو مقبوضہ علاقہ نہ بنائیں، مولانا ہدایت الرحمن

لاہور (ویب ڈیسک) امیرجماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے بلوچستان کامقدمہ مینار پاکستان اجتماع عام میں ملک بھرکے لاکھوں عوام کے سامنے پیش کردیا۔ عوام وقائدین نے کھڑے ہوکرتائیدوحمایت اورہرقسم کے تعاون کایقین دلایا۔ امیرجماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے بڑے عوامی اجتماعی مسائل، ماورائے آئین وقانون غائب کیے گیے لاپتہ افراد، جائز حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والے سیاسی قیدی، وسائل پردسترس نہ دینا، سی پیک، سیندک، ریکوڈک سمیت دیگرپراجیکٹس کے ثمرات سے محرومی، چیک پوسٹیں، سول حکومت کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی مسلط حکمرانی ہیں۔ حکمران بلوچستان کونوگو، مقبوضہ علاقہ نہ بنائیں بلکہ بلوچستان کوحقوق، عوام کو عزت واحترام، روزگار و تعلیم اورمعاشی حقوق دیں۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے مینارپاکستان میں جماعت اسلامی کے کل پاکستان تین روزہ اجتماع عام کے آخری دن لاکھوں مردوخواتین کے سامنے بلوچستان کامقدمہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کوچیک پوسٹوں،تھانوں کے بجائے مقتدرقوتوں اور اسلام آباد کے حکمرانوں نے اہالیان بلوچستان پرتعلیم روزگار، تجارت، بارڈرز، شاہراہیں بند کی ہوئی ہیں۔ جائز حقوق مانگنے والی بہنوں کوجیل میں بند کیا ہے، بلوچستان میں احتجاج، جمہوری سیاسی مزاحمت پرغیراعلانیہ پابندی لگائی گئی ہے۔ بارڈرز،چیک پوسٹوں واسمبلی کے اندر اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی واختیارہے جمہوری قوتوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں، معصوم عوام کوعلاج و تعلیم اورروزگارکی سہولت میسرنہیں قانونی تجارت کیلئے بارڈرز بند کیے گئے ہیں۔ بلوچستان میں عوام کے بجائے اسٹیبلشمنٹ واسلام آباد کے حکمرانوں کے کاروبار وتجارت اور حکومت چل رہی ہے، عوام کے جان ومال اورتجارت محفوظ نہیں۔ لاتعلق بے گناہ لوگوں کوماورائے قانون وعدالت غائب کیا جاتا ہے، انہیں رہائی کیلئے قانونی عدالتی حقوق نہیں دیے جاتے، نہ ہی جرم بتائے جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی بلوچستان نے حقوق کے حصول، ظلم وجبر، لاقانونیت کیخلاف کوئٹہ سے اسلام آباد لانگ مارچ کیا، حکمرانوں نے مطالبات ماننے کیلئے 6ماہ کاوقت مانگا مگر تاحال اس پرعمل نہیں ہوا، ہم دوبارہ اجتماع عام کے لاکھوں عوام کے سامنے اپنے جائز مطالبات اورحقوق کاچارٹرپیش کررہے ہیں، حکمران حقوق بلوچستان لانگ مارچ کے جائز مطالبات تسلیم کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں