اورماڑہ میں مردہ ڈولفن برآمد، بلوچستان کے ساحلوں پر بحری آلودگی سے نایاب اور معدوم سمندری حیات خطرے میں

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کے ساحلی شہر اورماڑہ کے قریب ساحل پر ایک نایاب انڈو پیسیفک فن لیس پورپوز جسے مقامی زبان میں ٹبی ڈولفن کہا جاتا ہے مردہ حالت میں پائی گئی ہے۔ یہ واقعہ ساحلی ماحولیاتی ماہرین اور تحفظِ جنگلی حیات کے اداروں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے، کیونکہ صوبے کے ساحل کے ساتھ صرف دو ہفتوں کے دوران یہ چوتھی سمندری ممالیہ کی ہلاکت ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں میں اب تک تین فن لیس پورپوز اور ایک اسپنر ڈولفن مختلف مقامات سے مردہ پائی جا چکی ہیں، جس کے بعد بلوچستان کے سمندری ماحولیاتی نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق اس بار برآمد ہونے والی لاش نسبتاً تازہ حالت میں تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موت حال ہی میں واقع ہوئی ہے۔ ابتدائی معائنے میں جسم پر کوئی گہری چوٹ یا زخم نہیں پایا گیا، جس سے شبہ ہے کہ ممکنہ طور پر یہ سمندری مخلوق فشنگ نیٹس میں پھنسنے، ماحولیاتی آلودگی یا سونار ویوز جیسے شور کے اثرات کا شکار ہوئی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق فن لیس پورپوز نہایت حساس سمندری ممالیہ ہیں اور ان کی تعداد عالمی سطح پر پہلے ہی کم ہوتی جا رہی ہے۔ بلوچستان کے ساحل پر لگاتار ہونے والی ہلاکتیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ سمندر میں کوئی بڑا ماحولیاتی دباو¿ یا غیر محفوظ فشنگ پریکٹس موجود ہے جسے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ماہر بحریات کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی اموات سے اندازہ ہوتا ہے کہ سمندری مخلوقات کے قدرتی رہائشی ماحول پر دباو¿ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ساحل کے ساتھ فشنگ نیٹس کے استعمال کی نگرانی سخت کی جائے۔ ماحولیاتی آلودگی کے ذرائع کی جانچ کی جائے۔ سمندری ممالیہ کی باقاعدہ مانیٹرنگ شروع کی جائے۔ محکمہ ماہی گیری اور جنگلی حیات نے گزشتہ پیش آنے والے واقعات کے بعد تحقیقاتی ٹیم کو ذمہ داری سونپی ہے تاکہ اموات کی اصل وجہ کا سراغ لگایا جا سکے۔ حکام نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ساحلی علاقوں میں عارضی حفاظتی زون بھی قائم کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں