ذہنی صحت کو پرائمری ہیلتھ کیئر کا حصہ بنانے کیلئے مریضوں کا مستند ڈیٹا اہمیت کا حامل ہے، سی ای او پی پی ایچ آئی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) چیف ایگزیکٹو آفیسر پی پی ایچ آئی بلوچستان ڈاکٹر ایم بی راجا دھاریجو نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت کے مسائل کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے اور لوگ خاموشی سے ان کا سامنا کرتے ہیں۔ ان مسائل کی کوئی ظاہری علامت نہیں ہوتی بلکہ ذہنی دباﺅ اور بے چینی کو کم کرنے کے لیے مناسب ٹولز اور معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے پی پی ایچ آئی بلوچستان کے تمام سائیکالوجسٹس اور طبی اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ مریضوں کا ڈیٹا مرتب کرکے متعلقہ سیکشن کو ارسال کریں تاکہ بروقت اقدامات ممکن بن سکیں۔ پی پی ایچ آئی بلوچستان ضلعی سطح پر ماہرین نفسیات اور ہیلتھ ورکرز کے لیے تربیتی پروگرام بھی منعقد کرے گی۔ یہ بات ڈاکٹر ایم بی دھاریجو نے پی پی ایچ آئی بلوچستان کے زیراہتمام، یو این ایف پی اے کے تعاون سے ڈاکٹروں، ماہرین نفسیات اور کیس ورکروں کے لیے منعقدہ مینٹل ہیلتھ گیپ ایکشن پروگرام (mhGAP) اور پروبلم مینجمنٹ پلس (PM+) کے تربیتی سیشن کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تربیتی ورکشاپ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی بڑی آبادی بنیادی صحت کے مراکز (بی ایچ یوز) سے مستفید ہوتی ہے، اس لیے ذہنی صحت کو پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل عام ہیں، مگر ہمارے معاشرے میں ان پر کوئی بات نہیں کرتا جو کہ تشویش ناک امر ہے۔ اس لیے عوام میں شعور و آگاہی پھیلانا ناگزیر ہے اور ضروری ہے کہ لوگوں کو اپنے احساسات کے بارے میں کھل کر بات کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ڈاکٹر ایم بی دھاریجو نے اس بات پر زور دیا کہ جب بھی کوئی فرد ذہنی دباﺅ یا پریشانی محسوس کرے تو اسے بلا جھجھک مدد حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طبی عملے کو چاہیے کہ وہ ذہنی صحت کے حوالے سے لوگوں کو مو¿ثر خدمات فراہم کریں تاکہ ہلکے، درمیانے یا شدید نوعیت کے مسائل سے دوچار افراد کو بروقت معاونت مل سکے۔ انہوں نے ماہرین نفسیات اور شرکاءکو ہدایت کی کہ مریضوں کا ڈیٹا مستند ٹولز کے ذریعے باقاعدگی سے اکٹھا کریں اور علاج کے عمل کی مکمل دستاویزات تیار کریں، کیونکہ یہ معلومات ذہنی صحت کو پرائمری ہیلتھ کیئر میں ضم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی لیڈ یو این ایف پی اے، سعدیہ نے کہا کہ ذہنی صحت یو این ایف پی اے کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی و سماجی چیلنجز کے باعث ذہنی دباﺅ اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً زچگی کے بعد خواتین کو گھریلو ذمہ داریاں نبھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین نفسیات اور فیلڈ اسٹاف کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مسائل کو بروقت اور مو¿ثر انداز میں حل کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوغت کے دوران آنے والی تبدیلیاں بھی لڑکیوں کی ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کونسلنگ کو صرف غیر معمولی یا شدید ذہنی مسائل سے منسلک نہیں سمجھنا چاہیے کوئی بھی شخص ذہنی پریشانی کا شکار ہوسکتا ہے اور اسے بروقت رہنمائی اور معاونت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ تقریب میں چیف آپریٹنگ آفیسر پی پی ایچ آئی بلوچستان محمد ذاکر ناصر، پروگرام کوآرڈی نیٹر ہارون رشید کاسی، جی بی وی لیڈ یو این ایف پی اے شمائلہ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں