بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت پاکستان بھر میں نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز قائم کریں گے، سینیٹر روبینہ خالد
پشاور (ویب ڈیسک) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے باچا خان میڈیکل کمپلیکس، صوابی میں نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کا افتتاح کیا گیا۔ چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے بطور مہمانِ خصوصی تقریب میں شرکت کی اور سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان اور عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈاپانگ بھی موجود تھے جنہوں نے ماں اور بچوں کی صحت اورغذائیت کے حوالے سے اس اقدام کو نہایت اہم کردار دیا۔ افتتاح کے بعد سینیٹر روبینہ خالد کو عملے کی جانب سے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر میں فراہم کی جانے والی سہولیات پر فریفنگ دی گئی۔ اس دوران انہوں نے سینیٹر میں موجود زیر علاج مستحق خواتین سے بات چیت بھی کی۔ اس موقع پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ہم نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کے قیام میں تعاون پر صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں، بی آئی ایس پی تمام صوبوں کے ساتھ بہترین روابط اور باہمی اشتراک عمل کی پالیسی کو اپناتا ہے اور مستقبل میں بھی ہم آہنگی کے ذریعے تعاون کو مزید فروغ دیتا رہے گا۔ بی آئی ایس پی کا نشوونما پروگرام بچوں اور ماﺅں کی صحت و غذائیت کے فروغ کے لیے ایک اہم اور مو¿ثر اقدام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت بچے کی پیدائش سے لے کر دو سال کی عمر تک ماں اور بچے کو صحت اور غذائیت سے متعلق سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، کیونکہ بچے کی زندگی کے ابتدائی دو سال اس کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اس سینٹر کا افتتاح کیا گیا ہے تاکہ ماں اور بچے کو بروقت اور معیاری غذائی و طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان مراکز میں بچوں کی امیونائزیشن، فوڈ سپلیمنٹس سمیت دیگر ضروری صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی صوبائی حکومت کے تعاون سے خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں بھی ایسے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ یہ ایک جاری منصوبہ ہے جو مرحلہ وار مزید علاقوں تک توسیع پائے گا۔ سینیٹر روبینہ خالد نے واضح کیا کہ پروگرام کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مو¿ثر نظام موجود ہے اور کسی بھی قسم کی شکایت کی صورت میں باقاعدہ شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔


