ڈیری فارمز مالکان اگر شہر سے باہر منتقل نہیں ہوتے تو ڈیریاں سیل کر دی جائیں گی،بلوچستان ہائیکورٹ

کوئٹہ:چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ دودھ کی قیمتوں میں اضافے سے پورا شہر ڈیری فارمز مالکان سے ناراض ہے ‘ قیمتوں میں استحکام کیلئے شہری دودھ کا بائیکاٹ کر دیں ‘ ڈیری فارمز مالکان اگر شہر سے باہر منتقل نہیں ہوتے تو ڈیریاں سیل کر دی جائیں گی یہ ریمارکس انہوں نے گزشتہ روز دودھ کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافے پر سینئر صحافی نسیم حمید یوسفزئی کی جانب سے دائر کر دہ رٹ پٹیشن پر دئیے ‘قبل ازیں عدالت عالیہ نے ڈیری فارمز ‘شورومز اور گیراج کی شہر سے منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت بھی کی۔درخواست گزار کی جانب سے پیروی ممتازقانون دان جمیل آغا ایڈووکیٹ نے کی چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے کہا کہ دودھ کے نرخ آسمان پر پہنچا دئیے گئے ہیں شہری اگر کچھ دن دودھ کا بائیکاٹ کریں تو نرخوں میں استحکام آ سکتا ہے اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر انڈسٹریز نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے نرخنامہ تشکیل دیدیا ہے تا ہم اسے فائنل نہیں کر سکے عدالتی استفسار پر انہوں نے کہا کہ شاید عدالت نے احکامات دئیے ہیں کہ دودھ کے نرخ فی لیٹر100روپے مقرر کئے جائیں جس پر عدالت نے کہا کہ ہم نے ایسے کوئی احکامات جاری نہیں کئے بلکہ یہ کہا تھا کہ جب تک نرخ متعین نہیں کئے جاتے پہلے سے لاگو 100روپے فی لیٹر کے حساب سے دودھ فروخت کیا جائے ۔عدالت نے جب انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سے استفسار کیا کہ آپ لوگوں نے فی لیٹر کیا نرخ مقرر کئے ہیں تو عدالت کو بتایا گیا کہ فی لیٹر نرخ105روپے مقرر کئے گئے ہیں اس موقع پر درخواست گزار نسیم حمید یوسفزئی سول سوسائٹی کے نمائندے محمد اسلم رند اور نذر محمد بڑیچ نے بتایا کہ انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ نے سروے کے بغیر نرخ فکس کر دئیے ہیں جبکہ اس حوالے سے دودھ کے نرخوں کے تعین کے حوالے سے قائم کمیٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جس پر عدالت نے احکامات جاری کئے کہ اگر قانونی طور پر ممکن ہے تو کمیٹی ارکان کو محکمہ انڈسٹریز کی جانب سے بنائی جانیوالی کمیٹی میں شامل کر لیں یا ان ارکان کو اعتماد میں لیکر نرخنامہ تشکیل دیا جائے۔ڈیری فارمز ایسوسی ایشن کے صدر الطاف گجر نے عدالت کو بتایا کہ مہنگائی کی وجہ سے نرخ میں اضافے پر مجبور ہوئے لیکن عدالت اس حوالے سے جو بھی احکامات دیگی اس پرمن و عن عمل کیا جائے گا۔ڈیری فارمز ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ درخواست گزار دودھ کے نرخ کے حوالے سے آواز بلند کررہے ہیں لیکن انہیں چینی گھی آٹا اور دیگر خوردنی اشیا میں اضافہ نظر نہیں آتا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس پر آواز بلند کر لیں عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو کہا کہ منگل25اگست کوانڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ ‘ درخواست گزار ‘ سول سوسائٹی کے نمائندوں کا اجلاس طلب کیا جائے جس میں درخواست گزار کے تحفظات دور کر کے نرخ متعین کئے جائیں۔عدالت نے ڈیری فارمز کی شہر سے منتقلی کے کیس کی بھی سماعت کی جس پر ڈائریکٹر جنرل کیو ڈی اے صلاح الدین نورزئی نے عدالت کو بتایا کہ ڈیری فارمز ایسوسی ایشن کو درخشاں ہائوسنگ سکیم کے قریب پلاٹس دئیے جا رہے ہیں ہمارے سروے کے مطابق کوئٹہ شہر میں170کے قریب ڈیریاں ہیں ۔لیکن ڈیری فارمز مالکان کا کہنا ہے کہ کوئٹہ شہر سمیت کچلاک اور دیگر علاقوں میں بھی ہمارے فارمز ہیں جن کی تعداد700بنتی ہے لہذا 700کے قریب پلاٹس دئیے جائیں ۔جس پر چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے ڈیری فارمز ایسوسی ایشن سے کہا کہ یا تو وہ کیو ڈی اے سے پلاٹس لیکر منتقل ہو جائیں اگر ان کے معاملات کیو ڈی اے سے طے نہیں پاتے اور نرخ اور پلاٹوں کی تعداد پر اختلاف برقرار رہتا ہے تو ڈیری فارمز مالکان شہر سے باہر پرائیوٹ طور پر اراضی خرید کر منتقل ہو جائیں اور اگرایسا نہ کیا گیا تو ہم مجبورا‘‘ ڈیری فارمز کو سیل کرنے کے احکامات جاری کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں