کسی جرنیل، بیوروکریٹ، خان اور نواب کا نہیں یہ غریب عوام کا ملک ہے، ہم نے تجارتی راستے بند کر دیے، چین پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کررہا ہے، مولانا فضل الرحمن

لاہور (ویب ڈیسک) جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات یاد رکھیں کہ میں حکومت سے لڑتا ہوں، میں کسی سیاسی پارٹی سے نظریاتی اختلاف کرتا ہوں، لیکن حکمرانوں سے لڑنے کا معنی یہ نہیں کہ میں وطن عزیز کے چہرے کو بھی نوچا کروں۔ ملک میرا ہے اس ملک کی حفاظت ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں، یہ ہمارا گھر بھی ہے، یہ ہماری عزت بھی ہے، یہ ہمارا ناموس بھی ہے، یہ کسی جرنیل کا نہیں، یہ کسی بیوروکریٹ کا نہیں، یہ کسی خان اور نواب کا نہیں، یہ کسی جاگیردار کا نہیں، یہ کسی صنعت کار کا نہیں، یہ کسی سرمایہ دار کا نہیں، یہ اس ملک کے غریب عوام کا ملک ہے۔ اگر ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی تو سب سے پہلے ہم میدان میں اترے کہ اس مرحلے پر اب قوم ایک ہے، ہم ایک صف ہیں اور جب جمعیت علماءاسلام نے پہلا قدم اٹھایا تو جس مختلف اطراف سے اور کونوں سے کچھ غلط توقعات تھی ان کے دروازے بند کر دیے گئے۔ آج اگر پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کر رہا ہے، تو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ ایران اور امریکا کا نہیں، اگر پاکستان کے پاس ثالثی کے کردار کا کوئی موقع آیا ہے تو وہ دنیا کو عالمی جنگ سے بچانی کی کوشش ہے، ہم ایسے وقت میں پاکستان کی اس اعزاز کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہمیں اپنی پالیسیاں ٹھیک کرنی چاہیے، ہمارے کچھ سوالات ہیں، شائد کچھ دن ہم اپنے داخلی مسائل کی طرف توجہ نہ دے سکیں، لیکن بہرحال وہ ہمارے مسائل ہیں، ہمارے سامنے یہ سوال ہے پالیسی ساز لوگوں سے جو ملک کی خارجہ پالیسی بناتے ہیں، جو ملک کی داخلہ پالیسی بناتے ہیں، ان لوگوں سے سوال ہے کہ اس وقت آپ کا پورا مشرقی سرحد بند ہے، اس وقت آپ کا پورا مغربی سرحد بند ہے اور ہماری دو ہی سرحد ہے ایک مشرقی سرحد ہے اور ایک مغربی سرحد ہے دونوں سرحدیں ہم نے اپنے اوپر بند کر دی ہیں، دونوں اطراف میں ہم نے تجارتی راستے بند کر دیے ہیں، کاروبار کے راستے دنیا کے ساتھ ہم نے بند کر دیے ہیں اور چائنا ایک کوریڈور ہے جو پاکستان سے مایوس ہے اور وہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہا ہے اور ایران اس وقت نہ اچھے نہ برے کا ہے، تو بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ بتایا جائے کہ اس پاکستان کے اقتصادی مستقبل کیا ہے؟ بتایا جائے اس ملک کو آپ کدھر لے جانا چاہیں گے؟ گرانی اور مہنگائی ایک تو ہوتا نا حالات کی وجہ سے کچھ تدریجی طور پر قیمتیں بڑھتی ہیں لوگ بھی اس کے ساتھ مانوس ہوتے ہیں، کچھ دن اس کا احساس رہتا ہے، پھر معمول زندگی بن جاتا ہے، لیکن آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے ساتھ ہی پاکستان میں تیل کی قیمتوں نے ایسی چھلانگ لگائی کہ ہر انسان حیران اور ششدر ہے، جب ہم نے پورے ملک میں مظاہروں کا اعلان کر دیا، تو ایک طرف مظاہروں کا اعلان دوسرے طرف سے یہ دوسرے حالات، حکمران میرے پاس آئے کہ ان حالات میں آپ کو یہ مظاہرے نہیں کرنے چاہیے، میں نے کہا بالکل نہیں کرنے چاہیے، ہم نے ملک کے لئے مظاہروں کے کال واپس لی، لیکن پورے ملک میں مظاہروں کے کال دینا یہ ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ مو¿خر ہوا ہے منسوخ نہیں ہوا ہے۔ ہم سوچ سمجھ کر آگے بڑھتے ہیں، جذباتی ہو کر فیصلے نہیں کیا کرتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں