حیات بلوچ کا قتل، وردی پہن کر فورسز کو بدنام کیا جارہا ہے، منظور کاکڑ

اسلام آباد؛بلوچستان عوامی پارٹی کے سیکرٹری جنرل سینیٹرمنظوراحمدکاکڑ نے کہاہے کہ ریاست ماں باپ کی حیثیت رکھتی ہے ،حیات بلوچ ودیگر واقعات کے قابل مذمت ہے وردی پہن کر فورسز کو بدنام کیاجارہاہے ،دنیا کے ایجنڈے پر کام کرنے کا سلسلہ جاری ہے ،ریاست دہشتگردوں کا دوست نہیں لیکن جو دہشتگردوں کا دوست بنا ہے ان کا پتہ بھی نہیں چلا،پرائیویٹ سکولز کے خلاف احتجاج پر بچوں کو سکولوں سے نکال دیاجاتاہے ،مالکان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری کی نظر کردی ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ پرائیویٹ سکولز چھٹیوں کے باوجود فیسیں وصول کررہے ہیں اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ بھی آیا تھا والدین نے احتجاج بھی کیا جس کے دوران ایک ڈاکٹر صاحبہ احتجاج میں شامل ہوئی لیکن جب وہ روٹس سکول کے حوالے سے جب وہ گئی تو ان کے بچوں کو سرٹیفکیٹ تھمادیا گیا کہ آپ کا بچہ اس سکول میں پڑھ نہیں سکتا ،اس کا قصور یہ تھا کہ وہ احتجاج کا حصہ بنی ،پرائیویٹ سکولز نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری کی نظرکردیا ،اگر معیاری تعلیم مل رہی ہے تو وہ پرائیویٹ سکولز دے رہے ہیں کاش سرکاری سکولز ہمارے اس اسٹیج پر ہوتے پرائیویٹ سکولز کامقابلہ کرتے تو کوئی بھی اپنا بچہ پرائیویٹ سکول میں داخل نہ کرتا ،ایوانوں میں بیٹھے تمام لوگوں کے بچے پرائیویٹ سکولز اور باہر تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ غریب کا بچہ سرکاری سکول میں پڑرھاہے ،سرکاری سکولوں میں گھوسٹ اساتذہ اورگھوسٹ سکولز کاپتہ نہیں لگا پائے ،انہوں نے کہاکہ ریاست دہشتگردوں کا دوست نہیں بناہے جہاں ریاست دہشتگردوں کا دوست بنا ہے اس ملک کا پھر پتہ بھی نہیں چلاہے ریاست ماں باپ کی حیثیت رکھتی ہے ،تمام واقعات کی مذمت کرتے ہیں یہ ظلم ہے لیکن سہولت کاروں کا ساتھ ہمیں نہیں دینا چاہیے جو دنیا کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ،وردی پہن کر فورسز کو بدنام کرنے کیلئے ایسے واقعات کئے جارہے ہیں ریاست کبھی بھی اپنی رٹ نہیں توڑتی ،ریاست وحکومت کا ساتھ دیں تو کوئی بھی دہشتگرد یہاں کام نہیں کرسکتا ،بلوچستان اور سندھ میں دہشتگردی میں ملوث کل بھوشن سب کے سامنے ہے ،اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں ملوث لوگوں کے نام بھی سامنے آئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں