سرکاری اداروں خصوصاً اسپتالوں کو نجی شعبوں کے حوالے کرکے حکومت اپنی عوام دشمنی کو ثابت کررہی ہے، نجکاری کے عمل کو روکا نہ گیا تو احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں، بی این پی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری اور سابقہ ضلعی انفارمیشن سیکرٹری نسیم جاوید ہزارہ نے سرکاری اداروں کی نجکاری کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل حکومت کی ناکامی اور نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، خصوصاً سرکاری اسپتالوں کو پرائیویٹ اداروں کی تحویل میں دینے کا فیصلہ غریب عوام کو صحت کی سہولت سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ شدید مہنگائی اور بیروزگاری نے پہلے سے ہی عوام کو نڈھال کر کے رکھ دیا ہے اس پر سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجہ کی جو تھوڑی بہت سہولت میسر تھی وہ بھی عوام سے چھین لینے کی سازش کی جا رہی ہے جو کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ صحت اور تعلیم کسی بھی انسانی سماج کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، دنیا بھر کے ممالک میں ان دونوں محکموں کو حکومت کی زیر نگرانی چلائے جاتے ہیں لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے، اگر حکومت میں تھوڑی بہت عوام دوستی کا جذبہ ہوتا تو یہاں عوام کی سہولت کے لیے مزید سرکاری اسپتال اور اسکول قائم کرنے کے منصوبے بنائے جاتے مگر افسوس کہ سرکاری محکموں کی نجکاری سے حکومت اپنی عوام دشمنی کو ثابت کر رہی ہے، وہ عوام کو مزید سہولتیں دینے کے بجائے مزید مسائل پیدا کر رہی ہیں، کوئٹہ شہر میں قائم باچا خان اسپتال کو پرائیویٹائز کرنے کی مصدقہ اطلاعات سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اس کے علاوہ ٹراما سینٹر سول اسپتال کو بند کرنے کی باتیں بھی سننے میں آرہی ہیں، ویسے بھی کوئٹہ شہر میں پرائیویٹ اسپتالوں کی بھر مار ہے، جہاں اتنا مہنگا علاج کیا جاتا ہے جو ایک عام اور غریب انسان کے برداشت سے باہر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نجکاری کے عمل کو فوری طور پر معطل کر کے عوام کے علاج معالجے کے لئے مزید سرکاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں عوام کو جینے کا پورا حق دیا جاسکے جس کے لئے وہ بلوں کی ادائیگی اور ضرورت کی اشیاءخریدنے کی مد میں ٹیکس ادا کرتے ہیں اگر نجکاری کے اس عوام دشمن عمل کو فوری طور پر نہیں روکا گیا تو ہم بھر پور احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں