کرد گاپ کے قریب مال بردار گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کی مذمت، حکومت تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے، اے این پی
کوئٹہ (آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں مستونگ کے علاقے کردگاب کے قریب تاجر برادری کی مال بردار گاڑیوں کو نذرِ آتش کیے جانے کے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلوچستان بھر میں بڑھتی ہوئی بدامنی قومی شاہراہوں پر لوٹ مار ٹرانسپورٹ کو جلائے جانے اور شہریوں کے جان و مال کو لاحق خطرات نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے چمن سے لے کر لسبیلہ، ژوب سے گوادر تک صوبے کے طول و عرض میں امن و امان کی صورت حال دن بدن ابتر ہوتی جا رہی ہے جبکہ حکومت اور ریاستی ادارے عوام الناس کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں بیان میں کہا گیا کہ مستونگ میں پیش آنے والا واقعہ نہ صرف تاجر برادری بلکہ پورے صوبے کے عوام کے لیے باعثِ تشویش ہے آئے روز قومی شاہراہوں پر مسافروں تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں بدامنی کے ان مسلسل واقعات کے پیچھے مذموم عزائم کارفرما ہیں اور ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت صوبے کے عوام میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ اس کی آڑ میں وسائل کی لوٹ مار کو مزید تیز کیا جا سکے بیان میں کہا گیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو درپیش سنگین مسائل سے مکمل لاتعلق ہو چکی ہیں مہنگائی کے طوفان نے عام آدمی کی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے اور غریب عوام دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث اشیائے خوردونوش ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس سے متوسط اور غریب طبقہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہےصوبائی بیان میں ایرانی پٹرول مافیا حکومت اور انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے بلوچستان میں من مانی قیمتوں پر پٹرول فروخت کر رہا ہے جہاں بعض علاقوں میں پٹرول 400 روپے فی لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے یہی صورتحال دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں عوامی نیشنل پارٹی نے مطالبہ کیا کہ قومی شاہراہوں پر امن و امان کے قیام کے لیے فوری اور مثر اقدامات، بدامنی اور جرائم کی روک تھام یقینی، تاجروں اور مسافروں کو مکمل تحفظ فراہم اور مہنگائی خصوصا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو قابو میں رکھنےکیلئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھائے جائیں اگر عوامی مسائل کے حل اور امن و امان کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی۔


