کوئٹہ جرگہ اختتام پذیر، بلوچستان میں پشتونوں کیلئے نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ
کوئٹہ( آئی این پی ) تین روزہ پشتون قومی جرگہ اختتام پذیر ہوگیا، جس میں 19نکاتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے 8 فروری کے انتخابات کو مسترد، موجودہ پارلیمنٹ ختم کرکے نئے، آزاد اور شفاف انتخابات کرانے، صوبے میں سویلین اتھارٹی بحال کرنے اور تمام اختیارات سویلین حکام کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جرگے نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو بھی مسترد کرتے ہوئے ملکی مسائل کے حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتون عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سیاسی اور آئینی راستہ اختیار کیا جائے۔ جرگے کے اعلامیے میں پشتون بلوچ برابری تسلیم کرنے یا جنوبی پشتونخوا پر مشتمل نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔اعلامیے میں لسانی، تاریخی اور جغرافیائی بنیادوں پر متحدہ پشتون یونٹ کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے صوبے کے تمام اضلاع اور شاہراہوں سے ایف سی کو فوری طور پر ہٹانے اور سویلین اتھارٹی بحال کرنے پر زور دیا گیا۔جرگے نے لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے لیویز فورس کو فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ زیارت میں پولیس اہلکاروں کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے اپوزیشن کی جانب سے کمیشن تشکیل دینے کی بھی تجویز پیش کی گئی۔اعلامیے میں شاہراہوں پر ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں کو جلانے اور لوٹ مار کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ جرگے نے بلوچ قومی تحریک کا احترام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پشتون علاقوں میں بی ایل اے کی کارروائیوں کی مذمت کی اور ٹرک جلانے، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کو محکوم اقوام میں نفرت پھیلانے کی سازش قرار دیا۔پشتون بلوچ مسائل کے حل کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔ جرگے نے سرکاری ملازمین کی مرضی کے خلاف بلوچ علاقوں میں جبری تبادلے اور تعیناتیوں کو مسترد کیا، جبکہ معدنیات کے نام پر لاکھوں ایکڑ اراضی غیر مقامی افراد کو الاٹ کرنے اور جنگلات کی 24 لاکھ ایکڑ اراضی قبائل سے لے کر سرکار کے نام منتقل کرنے کی بھی مخالفت کی۔اعلامیے میں انویسٹمنٹ ایکٹ اور مائنز اینڈ منرل ایکٹ میں ترامیم کو صوبائی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کیا گیا۔ جرگے نے ڈیورنڈ لائن پر چمن، طورخم اور انگور اڈہ سمیت تمام تاریخی راستوں پر قانونی تجارت بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ منشیات اور اسلحے کے علاوہ تمام اشیا کی تجارت سرحدی عوام کا قانونی حق ہے۔جرگے نے بانی پی ٹی آئی عمران خان، علی وزیر اور ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، تمام لاپتہ افراد کی بازیابی اور فورتھ شیڈول کی پالیسی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔


