سردار عطاءاللہ خان مینگل کے نظریات، سیاسی فکر، اصولی موقف اور قومی حقوق کے لیے جدوجہد آج بھی زندہ ہے،بی ایس او مرکزی چیئرمین بالاچ قادر

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین بالاچ قادر نے عظیم بلوچ سیاسی رہنما اور رہشون سردار عطااللہ خان مینگل کی برسی کے موقع پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سردار عطااللہ مینگل کی طویل سیاسی جدوجہد، اصول پسندی اور قربانیاں بلوچ قوم کی سیاسی تاریخ کا اہم باب ہیں، جبکہ ان کی فکر اور جدوجہد آج کی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ سردار عطااللہ مینگل کی پوری سیاسی زندگی بلوچ قومی حقوق، قومی خودمختاری، حق حاکمیت، جمہوریت اور انصاف کے اصولوں کے لیے جدوجہد سے عبارت رہی۔ انہوں نے مشکل ترین سیاسی حالات، ریاستی دباو¿، قید و بند، جلاوطنی اور اپنے بیٹے کی گمشدگی جیسے صبر آزما حالات کا سامنا کیا، لیکن اپنے اصولی مو¿قف اور سیاسی نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی سیاسی زندگی اس امر کی واضح مثال ہے کہ قومی حقوق اور اصولی سیاست کی جدوجہد میں مشکلات کے باوجود ثابت قدمی کس قدر اہم ہے۔ سردار عطااللہ خان مینگل بلوچ سیاست کے ان معماروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بلوچ قومی سیاست کو ایک واضح سیاسی سمت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی سیاسی بصیرت، قومی جدوجہد اور اصولی مو¿قف نے بلوچستان کے سیاسی شعور کو گہرا اثر دیا۔ وہ محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک ایسے عہد کی نمائندگی کرتے تھے جس میں بلوچ قومی حقوق کے سوال کو جمہوری اور سیاسی انداز میں اجاگر کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کی گئی۔ سردار عطااللہ خان مینگل ایک تجربہ کار قانون مشق اور دوراندیش سیاسی رہنما تھے۔ انہوں نے بلوچستان کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کے حوالے سے کئی دہائیاں قبل جن خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا تھا، آج بلوچستان کی صورتحال ان خدشات کی عملی تصویر پیش کررہی ہے۔ ان کی سیاسی بصیرت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انہوں نے بلوچستان کے بنیادی مسائل اور ان کے ممکنہ نتائج کو بہت پہلے بھانپ لیا تھا۔ آج بلوچستان میں سیاسی بے یقینی، محرومی، بداعتمادی اور حقوق کے سوالات جس شدت سے موجود ہیں، وہ سردار عطااللہ مینگل کے ان خدشات کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ سردار عطااللہ مینگل جسمانی طور پر آج ہمارے درمیان موجود نہیں، تاہم ان کے نظریات، سیاسی فکر، اصولی مو¿قف اور قومی حقوق کے لیے جدوجہد آج بھی زندہ ہیں۔ بلوچ نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کے لیے ان کی زندگی ایک ایسے سیاسی ورثے کی حیثیت رکھتی ہے جس سے اصول پسندی، ثابت قدمی، سیاسی بصیرت اور قومی حقوق کے لیے جدوجہد کا درس ملتا ہے۔ رہشون سردار عطااللہ مینگل کی برسی محض ایک عظیم سیاسی شخصیت کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ ان کے سیاسی افکار، اصولوں اور جدوجہد کا ازسرِنو جائزہ لینے کا موقع بھی ہے۔ ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ قوموں کے بنیادی حقوق، انصاف اور سیاسی اختیار کے لیے اصولی اور پرامن جدوجہد کو کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں