بلوچستان میں 21 ماہ سے پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، سیکرٹری صحت مجیب الرحمن
کوئٹہ( آئی این پی )سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پولیو کے خلاف جاری بھرپور جدوجہد کے نتیجے میں گزشتہ 21ماہ کے دوران پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم پڑوسی ممالک اور دیگر علاقوں سے پولیو وائرس کی منتقلی کے خدشات کے پیش نظر کوئٹہ سمیت صوبے کے پانچ اضلاع میں پانچ روزہ پولیو بوسٹر مہم شروع کر دی گئی ہے۔ مہم کے دوران پانچ سے دس سال تک عمر کے ساڑھے تین لاکھ بچوں کو پولیو سے بچا ﺅکے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے پانچ اضلاع میں پولیو کمپین بوسٹر مہم کا افتتاح کرتے ہوئے سیکرٹری صحت بلو چستان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پولیو کے خلاف ہماری جنگ اور بھرپور جدوجہد کے باعث گزشتہ 21ماہ سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ عوامی تعاون اور بھرپور فوکس کے ذریعے ہم اس موذی مرض کو جڑ سے اکھاڑنے میں کامیاب ہوں گے۔ پولیو کے قطرے بچوں میں بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت بڑھانے کے ساتھ ساتھ پولیو وائرس کے سرکولیشن کا سلسلہ توڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سیکرٹری صحت کے مطابق اگرچہ بلوچستان میں پولیو کے کیسز رپورٹ نہیں ہوئے، تاہم ہمسایہ ممالک یا دیگر علاقوں سے ماحول میں پولیو وائرس کے آنے کے خدشات بدستور موجود ہیں۔ انہی خدشات کے پیش نظر پانچ سے دس سال تک عمر کے بچوں کے لیے پانچ روزہ بوسٹر مہم شروع کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مہم کے دوران ساڑھے تین لاکھ بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پانچ ہزار سکولز اور مدارس بھی مہم کے ٹارگٹ میں شامل ہیں۔مجیب الرحمن نے اساتذہ، والدین اور مدارس کے مہتمم حضرات سے اپیل کی کہ وہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے محکمہ صحت کا بھرپور ساتھ دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلائے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ فی الحال مہم کوئٹہ بلاک میں جاری ہے، جس کے بعد سیمپلز اور ڈیٹا کی بنیاد پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ماہانہ بنیادوں پر چیف سیکرٹری بلوچستان کی زیر صدارت اجلاس بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔سیکرٹری صحت نے مزید کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو پولیو بوسٹر مہم کو دوسرے اضلاع تک بھی پھیلایا جائے گا، فی الحال ان علاقوں میں مہم جاری ہے جہاں اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔


