قلات کے حکمران خود کو خانِ بلوچ کہتے تھے براہوئی کنفیڈریسی کی اصطلاح نوآبادیاتی مورخین کی وضع کردہ ہے، ثناء بلو چ

ویب ڈیسک : سابقہ سینیٹر ثنا ءبلو چ نے محمود خان اچکزئی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ محترم محمود خان صاحب کے لیے میرے دل میں بے حد احترام ہے، لیکن اگر ہم برطانوی نوآبادیاتی حوالوں کو حرفِ آخر اور مستند تاریخ ماننا شروع کر دیں تو پھرپشتونوں،بلوچوں اور خطے کی دیگر اقوام کے بارے میں بھی بے شمار گمراہ کن دعوو¿ں کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ پشتون اور بلوچ دونوں صدیوں تک نوآبادیاتی طاقتوں کے زیرِ اثر رہے، اس لیے ان کے وضع کردہ اصطلاحات، درجہ بندیاں اور سیاسی تعبیرات کو تاریخ کا حتمی حوالہ نہیں بنایا جا سکتا۔
ان کے مطابق براہوی کنفیڈریسی کی اصطلاح بھی دراصل قلات کے حکمرانوں کی نہیں بلکہ نوآبادیاتی دور کے برطانوی مصنفین اور مورخین کی وضع کردہ اصطلاح ہے۔ تاریخی ریکارڈ سے واضح ہے کہ قلات کے حکمران خود کو "خانِ بلوچ” کہتے تھے، نہ کہ "براہوی کنفیڈریسی” کے سربراہ۔ خان قلات ایک مشترکہ سیاسی وحدت تھی جس میں براہوی، بلوچ اور دیگر قبائل شامل تھے۔ حتیٰ کہ Encyclopaedia Iranica بھی تسلیم کرتی ہے کہ خانِ قلات کا لقب خانِ بلوچ تھا اور ریاست کی سیاسی شناخت بلوچ تھی۔بلوچستان کی تاریخ اتحاد، مشترکہ جدوجہد اور اجتماعی سیاسی شناخت کی تاریخ ہے، نہ کہ ان نوآبادیاتی اصطلاحات کی جو بعد میں تفریق اور تقسیم کے لیے متعارف کرائی گئیں۔ میر نوری نصیر خان نے بھی اپنی شاعری اور سیاسی فکر میں اس سرزمین کو بلوچ وطن کے طور پر بیان کیا۔ تاریخ کو انہی لوگوں کی نظر سے پڑھنا چاہیے جنہوں نے اسے جیا، نہ کہ صرف ان قوتوں کی نظر سے جنہوں نے اس پر حکومت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں