آئندہ مالی سال کا بجٹ جمعہ کو پیش کیا جائےگا، ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا امکان
اسلام آباد (این این آئی) وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹرمحمد اور نگزیب آئندہ مالی سال 2026-27کیلئے 17.5 ٹریلین روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ (آج) جمعہ کو پیش کیا جائےگا، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے اور ٹیکس کی شرح میں کمی مد میں50 ارب روپے تک کا ریلیف دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ ٹیکس ریلیف دینے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے متوقع ہے۔تفصیلات کے مطابق (آج)جمعہ کو وزیراعظم میاں شہبازشریف کی زیر صدارت ہونیو الے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں آئندہ مالی سال2026-27 کے وفاقی بجٹ کے مسودے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں اضافے کی منظوری دی جائےگی۔وفاقی کابینہ کی منظوری کے فوری بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اگلے مالی سال کا وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیا اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے جبکہ اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز بھی بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی،بجٹ میں درآمدی الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز)پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھانے کا امکان ہے جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رہنے کا امکان ہے،بجٹ میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر کاربن لیوی لگانے کی تجویز ہے ،بڑی گاڑیاں مزید مہنگی ہونے کا خدشہ جبکہ مقامی سطح پر تیار الیکٹرک وہیکلز سستی ہونے کی امید ہے تاہم ہائبرڈ گاڑیوں پر معمول کے ٹیکس برقرار رہیں گے،مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کیلئے موٹرز، بیٹریز اور دیگر پرزوں پر کسٹم ڈیوٹی ایک فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق سیلز ٹیکس بھی ایک فیصد رکھنے کی سفارش ہے جبکہ فیڈرل ایکسائز،کیپٹل ویلیو اور ودہولڈنگ ٹیکس کی مکمل چھوٹ کی تجویز کی گئی ہے ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی سے ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان ہے۔ذرائع کے مطابق قرضوں پر سود کیلئے7 ہزار 824 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دفاعی شعبے تقریباً 3ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ،آئندہ مالی سال تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا خدشہ ہے کیونکہ برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق زراعت کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد مقرر، صنعتیں 4 فیصد کی شرح سے ترقی کریں گی جبکہ بڑی صنعتوں کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد جبکہ خدمات کی کارکردگی 4.2 فیصد رہنے کا تخیمنہ ہے،حکومت روزگار کے 20 لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ذرائع کے مطابق خدمات کے شعبے میں 11 لاکھ ،صنعتی شعبے میں 5 لاکھ اورزرعی شعبے میں 4 لاکھ ملازمتوں کا ہدف رکھا گیا ہے قومی اقتصادی کونسل آئندہ وفاقی بجٹ کیلئے اہم معاشی اہداف کی منظوری بھی دے چکی ہے۔ذرائع کے مطابق این ای سی کی طرف سے 3 ہزار 669 ارب روپے کا قومی ترقیاتی پلان بھی منظور کیا جاچکا ہے وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم 1000 ارب روپے،چاروں صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں کےلئے 2218ارب روپے رکھے گئے ہیں وفاق اور صوبے مل کر ترقیاتی بجٹ میں ایک ہزار 46 ارب روپے کی بچت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں 701 ارب، سندھ میں 110 ارب اور خیبرپختونخوا کے فنڈز میں 109 ارب روپے کمی کی گئی۔ فیصلہ کیا گیا کہ دفاع اور وزارت داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریبا 50 ارب روپے تک ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے،انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کی جا سکتی ہے ۔ذرائع کے مطابق ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد کو ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق زیادہ آمدن والوں کیلئے بھی ٹیکس شرح میں نرمی کی تجاویز شامل ہیں،مجوزہ منصوبے کے تحت ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد کمی کی تجویز ہے جس کے بعد اس سلیب میں ٹیکس شرح 25 فیصد اسیکم ہوکر 20 فیصد تک آسکتی ہے، اس سلیب سے قریبا 4 لاکھ ملازمین مستفید ہونے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق ماہانہ 4 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر 29 فیصد ٹیکس لگانے، جبکہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدن پر 32 فیصد ٹیکس شرح مقررکرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جبکہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ماہانہ آمدن پر زیادہ سے زیادہ 35 فیصد ٹیکس برقرار رکھنے کا امکان ہے،سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن والوں پر یہی شرح لاگو کرنے کی تجویز ہے جبکہ سالانہ ایک کروڑ سے زائد کمانے والوں پر عائد سرچارج ختم ہو سکتا ہے جبکہ آئندہ مالی سال2026-27 کے وفاقی بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنی ختم کئے جانے کا بھی امکان ہے ساتھ ہی بچوں کے فارمولا دودھ، گھی ،ککنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کئے جانے کا بھی امکان ہے جس کے تحت ان اشیا کی پیکنگ پر پرچون قیمت کی پرنٹنگ لازمی قرار دینے کی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کی بھی تجویز ہے آئندہ مالی سال2026-27 کے وفاقی بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات اور انفورسمنٹ کے ذریعے ایک ہزار ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کرنے کا ہدف مقرر کئے جانے کا امکان ہے ، بجٹ ناپتھا پٹرولیم مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی بھی تجویز ہے ، ٹیکس قوانین میں اہم ترامیم کرکے اسٹیل سیکٹر کے لیے فکسڈ سیلز ٹیکس نظام اور ڈیجیٹل انضمام، پیداوار کی نگرانی اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس)سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لئے سخت سزائیں متعارف کروانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بجٹ میں سپرٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولادودھ، کیچپ،ویجیٹبل گھی ،کوکنگ آئل ،چائے کی پتی ،چینی،خشک دودھ اور خود سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا پرسیلز ٹیکس وصولی کیلئے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کیلئے ان درجنوں اشیا کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا،اس کے علاوہ جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیا کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے جب کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001 کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔


