یہودی آباد کاروں کے محاصرے میں گھرے مغربی کنارے کے گائوں میں مزید فوجی بھیج دیے ہیں، اسرائیلی فوجی ترجمان
غزہ(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جمعرات کو مغربی کنارے کے ایک گاو¿ں میں مزید فوجی بھیجے ہیں جہاں آباد کاروں نے فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس محاصرے کا مقصد انہیں ان کی زمین سے زبردستی بے دخل کرنا ہے۔یہ محاصرہ ہفتے کے آخر میں اس وقت شروع ہوا جب یہودی آباد کاروں نے فلسطینی گاو¿ں ‘قصرہ’ میں واقع تین گھروں کی طرف جانے والا راستہ بند کر دیا اور ان کے گھروں کے سامنے والے صحن میں خیمہ لگا کر کسی کو بھی اندر آنے یا باہر جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ آباد کار اس سے قبل ان گھروں کی بجلی اور پانی کی فراہمی بھی منقطع کر چکے تھے۔ وہ علاقے سے آباد کاروں کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ اس ہفتے کے اوائل کی ایک ویڈیو میں سبز فوجی لباس میں ملبوس کئی اسرائیلی مردوں کو خیمے میں آباد کاروں کے ساتھ صبح کی عبادت میں شامل ہوتے دیکھا گیا تھا۔ فوج نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ملوث کسی بھی اہلکار کے خلاف تادیبی کارروائی کر رہی ہے۔آباد کاروں کو ہٹانے کی ناکام کوشش کے دوران فوج کی جانب سے آنسو گیس کے استعمال کے ایک دن بعد، فوج نے کہا کہ اس نے قصرہ میں اضافی فوجی بھیجے ہیں تاکہ "علاقے میں سیکیورٹی برقرار رکھنے اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے دفاعی مشنز اور گشت کا کام سرانجام دیا جا سکے۔” اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ دو بچوں سمیت تقریباً 15 فلسطینی اپنے گھروں میں شدید خوف و ہراس کے عالم میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، اور وہ نہ تو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہیں اور نہ ہی انہیں پانی یا بجلی کی سہولت میسر ہے۔


