آرچر روڈ پر گوردوارے کی اراضی سے متعلق قرارداد، کیس عدالت میں زیر سماعت ہونے کے باعث اسمبلی میں اراضی پر بحث روک دی گئی
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں آرچر روڈ پر واقع تاریخی گوردوارے کی اراضی کی فروخت یا لیز منسوخ کرنے سے متعلق قرارداد پیش کی گئی، تاہم اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن رعبدالخالق اچکزئی نے قرار دیا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہونے کے باعث اس پر ایوان میں بحث نہیں کی جاسکتی۔اجلاس کے دوران قرارداد پارلیمانی سیکرٹری سنجے کمار نے پیش کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ مذکورہ پراپرٹی وفاقی ادارے کی ملکیت ہے اور معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، عدالت جو فیصلہ کرے گی اسے تسلیم کیا جائے گا۔رکن بلوچستان اسمبلی اصغر ترین نے کہا کہ محکمہ اوقاف کے پاس صوبے میں بڑی تعداد میں املاک موجود ہیں جنہیں مختلف اوقات میں لیز پر دیا جاتا ہے۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ گوردوارہ اراضی کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہونے کے باعث اسمبلی میں اس پر بحث نہیں ہوسکتی۔اجلاس میں ڈیرہ مراد جمالی میں لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچرل، واٹر اینڈ میرین سائنسز کے سب کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینے سے متعلق قرارداد بھی پیش کی گئی۔ قرارداد پارلیمانی سیکرٹری انجینئر عبدالمجید بادینی نے ایوان میں پیش کی۔صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ فی الحال نئی یونیورسٹی قائم نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت بھی 16 سب کیمپس کام کررہے ہیں اور حکومت کو موجودہ جامعات چلانے میں ہی مالی مشکلات کا سامنا ہے۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ قرارداد کو فی الحال برقرار رکھا جائے اور معاملہ صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ بعد ازاں اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے قرارداد واپس لیے جانے کا اعلان کردیا۔


