تمپ،سماجی کارکن وسیم عبدالنبی دوسری بار لاپتہ ، تاحال بازیاب نہ ہوسکے ، اہل علاقہ کا بحفاظت بازیابی کا مطالبہ
تمپ(بیورورپورٹ )ضلع کیچ کے علاقے تمپ نظرآباد سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور اسپورٹس مین وسیم عبدالنبی کی دوسری بار مبینہ گمشدگی پر اہل خانہ، سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، تاجر برادری، وکلا، انسانی حقوق کے نمائندوں اور علاقائی معتبرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہیں 9 اکتوبر کو نامعلوم مسلح افراد نے لاپتہ کیا جو اب تک بازیاب نہ ہوسکے ہیں۔ وسیم عبدالنبی کو نامعلوم مسلح افراد نے ان کی دکان سے مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر اپنے ہمراہ لے جانے کے بعد لاپتہ کردیا۔ واقعے کے بعد ان کے اہل خانہ اور اہل علاقہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ ان کی موجودگی اور گمشدگی کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں۔وسیم عبدالنبی اس سے قبل 2017 میں بھی لاپتہ کیے گئے تھے۔ اس وقت ان کی گمشدگی کا الزام ایک مسلح تنظیم پر عائد کیا گیا تھا۔ فیملی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق تفتیش کے دوران بے گناہی ثابت ہونے کے بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ تاہم ان کی حالیہ گمشدگی کے محرکات اور ذمہ داروں کے بارے میں تاحال کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔وسیم عبدالنبی علاقے میں سماجی سرگرمیوں میں متحرک رہنے کے علاوہ کھیلوں سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کی دوسری بار گمشدگی نے مقامی آبادی میں تشویش پیدا کردی ہے جبکہ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے پیارے کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔وسیم عبدالنبی کی گمشدگی کے خلاف آل پارٹیز کیچ سمیت مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، تاجر برادری، وکلا، انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اور عوامی نمائندوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی پر زور دیا ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وسیم کے بارے میں فیملی کو معلومات فراہم کی جائیں اور ان کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔اہلِ خانہ نے بھی وسیم عبدالنبی کی دوسری بار گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی رہائی کی اپیل کی ہے۔ خاندان کو شبہ ہے کہ انہیں کسی مسلح تنظیم نے لاپتہ کیا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اہل خانہ نے متعلقہ فریقوں سے اپیل کی ہے کہ اگر وسیم کے خلاف کوئی شکایت یا الزام ہے تو اسے واضح کیا جائے، بصورتِ دیگر انہیں بحفاظت رہا کیا جائے۔دوسری جانب اہلیانِ تمپ اور علاقائی معتبرین نے وسیم عبدالنبی کی بے گناہی کی گواہی دینے اور ان کی رہائی کے لیے ضمانت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی فریق کو وسیم سے کوئی شکایت ہے تو وہ اسے سامنے لائے، جبکہ علاقے کے ذمہ دار شہری ان کے کردار اور طرزِ عمل کے حوالے سے گواہی دینے کے لیے تیار ہیں۔ وسیم کی سلامتی اور بحفاظت واپسی کے لیے علاقے میں قرآن خوانی کا اہتمام بھی کیا جا چکا ہے۔ وسیم عبدالنبی جیسے سماجی طور پر متحرک نوجوان کی گمشدگی اور اس کے اسباب کا واضح نہ ہونا اہل خانہ اور علاقے کے لوگوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وسیم کی گمشدگی کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے، ان کی موجودگی کے بارے میں معلومات سامنے لائی جائیں اور انہیں بحفاظت بازیاب کیا جائے۔اہلِ خانہ، سیاسی و سماجی حلقوں اور اہلیان تمپ نے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وسیم عبدالنبی کو مزید غیر یقینی صورتِ حال میں رکھنے کے بجائے فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ ان کے خاندان کی پریشانی ختم ہو اور علاقے میں پائی جانے والی تشویش کا ازالہ ہوسکے۔


