موجودہ حکومت جمہوریت کے نام پر بدترین آمریت اور منی مارشل لاء ہے،سینیٹر حافظ حمداللہ

مانسہرہ:جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ر ہنما سینیٹر حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت جمہوریت کے نام پر بدترین آمریت اور منی مارشل لاء ہے۔پاکستان کے عوام ایک خاموش مارشل لاء کی آڑ میں زندگی گزار رہے ہیں۔یہ نہ حکومت اور نہ سیاست کو سمجھتے ہیں۔پارلیمنٹ کے بجائے کہیں اور فیصلے ہوتے ہیں۔اس لئے حقیقی جمہوریت کی بحالی آئین کی حکمرانی اور سول بالا دستی کے لئے تمام جمہوری قوتوں کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سابقہ تمام حکومتوں کو عالمی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کی بات نہ ماننے کی سزا دی گئی۔ وہ گذشتہ روز ترنگڑی مانسہرہ میں اپنی جماعت کے مرکزی راہنماء مفتی کفایت اللہ کی والدہ کی وفات پر تعزیت کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات اپوزیشن کی اے پی سی بلانے کیلئے اہم پیش رفت ہے۔ جس کے مولانا فضل الرحمان نے چھوٹی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے لیا ہے۔انہوں نے چھوٹی جماعتوں کی اے پی سی سے اپوزیشن تقسیم ہونے کے تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت تمام اپوزیشن ایک ہی پیج پر ہے۔جلد ہی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں اے پی سی کا ایجنڈا طے کر دیا جائے گا۔اور اس طرح اپوزیشن حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں کامیاب ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام جمہوری قوتوں نے روز اول ہی سے اس حکومت کے جعلی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا اورآج زندگی کے تمام شعبوں میں موجودہ حکومت کی نا اہلی تمام ادروں پر ظاہر ہو چکی ہے۔لیکن اس کے باوجود مقتدر قوتوں کی جانب سے اس حکومت کی حمایت مضحکہ خیز ہے۔ایک سوال جواب میں حافظ حمداللہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل تسلیم کرنا تمام عرب ممالک کا فیصلہ نہیں۔ بلکہ عرب ممالک میں یو اے ای کو کوئی اہمیت حاصل نہیں۔کیونکہ مسلمان سمجھتے ہیں کہ اسرائیل ایک غاصب جابر قاتل اور جارح ریاست ہے۔جن کے ہاتھ فلسطین کے مسلمانوں کے خون سے رنگین ہیں۔اور فلسطینی مسلمان ساٹھ سالوں سے اسرائیل کے خلاف نبرد آزما ہیں۔اور اسرائیل کے بارے میں جمعیت علماء اسلام کا موقف ریاست ہی کا موقف ہے۔ہمارے اکابر روز اول ہی سے اسرائیل کو ایک جارح ریاست قرار دیا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے دعویدار حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ جنرل ریٹائرد عاصم باجوہ کو برطرف کر کے ان پر لگے جانے والے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔ایک اور سوال کے جواب میں حافظ حمداللہ نے کہا کہ کچھ قو تیں ملک میں فرقہ واریت اور لسانیت کی دبی چنگاری کو ہوا دے کر بدامنی پھیلانا چاہتی ہیں۔علماء جذبات کے بجائے سنجیدگی فہم وفراست سے حالات کا ادراک کر کے وحدت کے لئے کردار ادا کریں۔اور خطے میں آگ وخون کا کھیل کھیلنے والوں کے عزائم خاک میں ملا دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں