ایف بی آر کا غلط کلیریشن پر پراپرٹی ضبط و سزا کا اعلان

اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں ایف بی آرحکام کی طرف سے انکشاف کیا گیا ہے کہ تیس جون دوہزاربیس تک ٹیکس ریفنڈزکا حجم سات سوایک ارب روپے پرپہنچ گیا ہے،وزارت خزانہ رقم فراہم کرے توادائیگی کرسکتے ہیں،کمیٹی نے ایف بی آر میں اصلاحات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انکم ٹیکس ریفنڈز کو سیٹل کرنے یا مسترد کرنے کی ہدایت کردی۔ بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس فیض اللہ کی زیرصدارت ہوا جس میں مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ٹیکس سسٹم مضبوط کرنے اور آٹومیشن سے بہتری آسکتی ہے، ہم ایف بی آر میں شخصیات کے بجائے بہتر نظام وضع کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکس محاصل اور پالیسی ونگ علیحدہ علیحدہ کرنا ہوگا۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ اصلاحات کیلئے ایک خودمختار یونٹ تشکیل دیا گیا ہے تمام اصلاحات کا ٹائم لائن ہے،اس کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ممبر کسٹمز پالیسی طارق ہدا نے کہاکہ نیشنل سنگل ونڈ گیم چینجر ثابت ہو گا،ابتدائی طور پر 80 قومی اداروں میں سے 28 ادارے اس سے منسلک ہوں گے،یہ نظام آئندہ سال جنوری سے شروع کریں گے،درآمدی مال کی تیز رفتار کلیرنس ممکن ہو سکے گی،زیادہ مال کو گرین چینل کے ذریعے کلیئر کریں گے،اس وقت 30 فیصد مال گرین چینل سے نکل رہا ہے اس کو آئندہ سال سے 60 فیصد کر دیں گے،ڈیوٹی چوری روکنے کیلئے کنٹینرز کو کھولنا پڑتا ہے،طورخم اور چمن بارڈر پر کاروبار میں بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،پاکستان کو افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کیلئے تجارتی مرکز بنانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں،چین کے بعد ایران اور افغانستان کے ساتھ الیکٹرانک ڈیٹا انٹرفیس کا معاہدہ پر عملدرآمد شروع ہو گیا،اب غلط ڈکلیئریشن پر پراپرٹی بھی ضبط ہو گی اور سزا بھی ملے گی،ملک میں 9 ارب ڈالر سے زائد کی سمگلنگ ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ساڑھے تین کروڑ موبائل فون سمگلنگ سے ا رہے تھے،موبائل سمگلنگ روکنے کیلئے اقدامات سے گزشتہ سال ڈیوٹی میں 45 ارب روپے جمع ہوئے،اسمگلنگ روکنے سے ملک میں صنعتی پیداوار بڑھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں