ملتان،بلوچ طلبا کا مخصوص نشستوں پرفیس وصولی کے خلاف احتجاج جاری
ملتان:بلوچ طلبا کا احتجاجی کیمپ ساتویں دن جاری رہا جو یونیورسٹی کی جانب سےمخصوص نشستوں پر فیس وصولی کے خلاف لگایا گیا ہے
جس میں موجودطلبا نے آج دس بجے یونیورسٹی گیٹ کےسامنے یونیورسٹی انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس سے بی ایس سی ملتان کے چئیرمین وقاربلوچ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا پہلے کہتے تھے بلوچستان والوں کو سردار ترقی نہیں کرنے دیتے اور نہ ہی ان کے وڈیرے ان کے تعلیم کے حق میں ہیں اب پنجاب میں کون سے ہمارے وڈیرے اور سردار ہیں؟ جوہمیں تعلیم نہیں دینا چاہتے ہیں یہاں تو پڑھا لکھا طبقہ ہے جن میں ہم بلوچوں کےخلاف تعصب پائی جاتی ہے وہ ہمارے تعلیم کےحق میں نہیں ؟ آخرکیوں ؟ حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ ہمارے پڑھانے کےحق میں نہیں ہیں کیوں ہم سے بات چیت نہیں کررہے ؟کیا ہم گونگے ہیں ؟بہرے ہیں ؟کیاہم بات نہیں کرسکتے ؟
انہوں نے کہا کہ پنجاب کےاعلی تعلیم یافتہ طبقہ اور حکومت سے اپیل کرتاہوں ہمیں پڑھنے دیں اور ہماری لیے یونیورسٹی اپنی وہی پرانی پالیسی برقرار رکھے تاکہ ہمارے نئے آنے والے طلبا اپنی تعلیمی سفرجاری رکھ سکیں
مظاہرین سے بانک زھرین بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہی ہم یہاں تعلیم کے حق کےلیے آئے ہیں کیا ہمیں تب تک تعلیم نہیں ملتی جب تک ہم سڑکوں پہ نہ آئیں
انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہی ہمارے سکالرشب بحال کی جائیں اور ہمارے طلبا کے مستقبل کوبچایا جائے
انہوں نے سیاسی تنظیموں ،طلبا تنظیموں اور انسان دوست افراد سےاپیل کرتے ہوئے کہی کہ وہ ہماری اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں
برکت نگوری نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے احتجاجی کیمپ کا ساتواں دن ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے یہاں ہمارا کوئی آواز سننے والا نہیں نہ ہی انتظامیہ سن رہا ہے اور نہ ہی یہاں کی عوام
جب آپ جبر کریں گے ظلم کریں گے تو ہم سڑکوں پرآئیں گے ہم اپنا حق مانگیں گے
ہم گورنر پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پرانی پالیسی برقرار رکھنے کےلیے یونیورسٹی انتظامیہ کوخط لکھیں
واضح رہے بلوچ اتحاد کےچئیرمین سردار عرفان رند کی قیادت میں ایک وفد نے بلوچ طلبا سے اظہارِیکجہتی کی اوربلوچ سٹوڈنٹس کے مطالبات سنیں اور ان کی پرزورتائید کی
انہوں نےوزیراعلی پنجاب سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بلوچ ہیں توآج اپنی بلوچیت کا مظاہرہ کرکے بلوچ طلبا کی داد رسی کریں
انہوں نےاعلی عہدوں پہ بیٹھے بلوچ رہنماؤں خصوصا سرداریار محمدرند سے اپیل کرتے ہوئےکہا کہ وہ ان طلبا کےمسئلے کوحل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ بلوچستان اوربلوچ قوم کا مستقبل محفوظ ہوسکے ۔
یادرہے بلوچ طلبا سے ڈیرہ غازی خان کی بلوچ قوم پرست پارٹی بلوچ راج کے مرکزی سینٹرل کمیٹی کے ممبر اور رہنما تاشفین بزدار نے ایک وفد کی صورت میں اظہاریکجہتی کی اور طلبا کو اپنی پارٹی کی طرف سے ہرممکنہ مددکی یقین دہانی کی
انہوں نےاس موقع پربات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں موجود سیاسی بحران اورحالات کےناساز ہونے کی وجہ سے ادارے تباہ ہوچکے ہیں جس کی وجہ سےحکومت نے بلوچستان کے طلبا کوتعلیم دینے کی سہولت دینے کااعلان کیا اور اس پرعمل درآمد صوبے بھرمیں جاری ہے مگر بی زیڈیوملتان نے پہلے اوپن میرٹ پرپڑھنے کی مفت سہولت اٹھائی اور اب مختص نشستوں پر ہم اس کی شدیدمذمت کرتے ہیں
انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ انہیں سنیں اور ان کے مطالبا ت پر کان دھریں ورنہ بلوچستان بھرمیں اس عمل کےخلاف مظاہرہ کریں گے
انہوں نے حکومت سےمطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی بلوچستان کے طلبا کےلیے اپنی پرانی پالیسی بحال کریں تاکہ بلوچ طلبا پڑھ لکھ کر قوم کی خدمت کرسکیں
واضح رہے ادھرسینٹ چیرمین نے پنجاب حکومت کوخط لکھا جس میں پنجاب حکومت سے انسانی بنیادوں پرفیس معافی کی بات کی گئی
جبکہ بلوچ طلبا نے بلوچستان کےسیاستدانوں ،عوام اورمیڈیاسےاپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہماری آواز کو مقتدرحلقوں تک پہنچانے کےلیے ہماری اس جدوجہدمیں ساتھ دیں


