مجید اچکزئی کی بریت کے بعد کی طوفان بدتمیزی کی مذمت کرتے ہیں ، پشتونخوامیپ
کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میںکہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری مجید خان اچکزئی کے ٹریفک حادثاتی کیس میں عدالتی بریت کے خلاف اخبارات ،پرنٹ والیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے جو طوفان بدتمیزی شروع ہوئی ہے پارٹی اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹریفک حادثات تمام دنیا میں وقوع پذیر ہوتے ہیں جس پر مجوزہ قوانین کے تحت مقدمہ قائم کیاجاتا ہے اگر چہ اس میں قیمتی انسانی جانیں صائع ہوجاتی ہیں جس میں مروجہ قوانین ، مقامی رواج اور روایات کے تحت فیصلہ کیا جاتا ہے اور ملک اور صوبے میں بھی روز مرہ زندگی میں دسیوں حادثات ہوتے ہیں اور قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع دردناک وافسوسناک امر ہے۔ پشتونخوامیپ نے اس افسوسناک واقعہ سے انکار نہیں کیا بلکہ مقتول خاندان کی دلجوئی اور اظہار افسوس کیلئے ان گھر گئے اور متاثرہ خاندان اور ان کے لواحقین سے اس دردناک اور افسوسناک واقعہ پر دکھ وافسوس کا اظہار کیا تھا اور پارٹی نے نہ تو مروجہ قوانین ، رواج او رروایات سے انکار کیا تھا اور نہ ہی متاثرہ خاندان کی دلجوئی میں کوئی کسر چھوڑی تھی بلکہ اس کیلئے عملی ثبوت بھی دیاتھا۔ مگر نہایت افسوس کی بات ہے کہ کسی کی ہدایت پر پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا دونوں نے پارٹی کے خلاف بالخصوص پارٹی چیئرمین محترم چیئرمین محمود خان اچکزئی اور انکے خاندان کے خلاف جو نفرت انگیز الفاظ کا استعمال کیا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔اور یہی عمل کئی دہائیوں تک انگریز استعمال کرتے رہے اور اب ملکی اسٹیبلشمنٹ نے اسی پالیسی اور روش کو جاری رکھا ہے۔ اوران اوچھے ہتھکنڈوں سے پارٹی کو آئینی سیاسی جمہوری جدوجہد ، ملک کو قوموں کی برابری کا حقیقی فیڈریشن ، آئین کی بالادستی ، حقیقی وفاقی پارلیمانی نظام کے قیام اور پارلیمنٹ کی سپرمیسی کے مطالبات سے دستبردار نہیں کرایا جاسکتا ۔ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ وہ اس ٹریفک حادثے کو خاشقجی کا قتل قرار دے کر پارٹی کو بلیک میل کر سکے گا تو یہ خام خیال ہوگی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرستان کے خڑ کمر کے واقعہ ، عارف وزیر کی ٹارگٹ کلنگ اور حالیہ دنوں تربت میں طالب علم حیات بلوچ کو ماں باپ کے سامنے شہید کرنے کے واقعات پر نہ صرف کنٹرول پرنٹ والیکٹرونک میڈیا کی خاموشی جرم کے زمرے میں آتی ہے بلکہ ن واقعات پرکسی بھی سرکاری شخصیت اور حکومت نے مذمت تک نہیں کیں لیکن گزشتہ چند دنوں سے مجید خان اچکزئی کا عدالتی بریت کے فیصلے کو میڈیا کا زینت بنادیا گیا ہے اور اصل حقائق سے نظریں چرانے کی ناکام کوششیں کی جارہی ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں پشتون بلوچ محکوم اقوام کے خلاف جو کچھ ہورہا ہے وہ پورے ملک کے سامنے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اس پالیسی اور روش کو نہ بدلا گیا تو اس کے منفی اثرات کی ذمہ داری مقتدر قوتوں پر عائد ہوگی۔


