ممبئی پولیس کو کنگنا رناوٹ کے خلاف منشیات کی تفتیش کا حکم
ایک روز قبل خبر سامنے آئی تھی کہ بھارت کی مرکزی حکومت نے بولی وڈ کی ’پنگا گرل‘ کنگنا رناوٹ کو وزرا اور اہم سرکاری عہدیداروں جیسی وائے پلس سیکیورٹی فراہم کردی۔
بھارت کی مرکزی حکومت نے کنگنا رناوٹ کو اس وقت اعلٰی سیکیورٹی فراہم کی تھی جب کہ 9 ستمبر کو بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے ان کے بنگلیمیں تھوڑ پھوڑ کی تھی۔
بی ایم سی کے مطابق کنگنا رناوٹ کے بنگلے کا کچھ حصہ غیر قانونی ہے اور انہیں مذکورہ جگہ خالی کرنے کا نوٹس بھی دیا گیا تھا۔
تاہم اداکارہ کی جانب سے بنگلے کی مذکورہ جگہ خالی نہ کیے جانے پر میونسپل انتظامیہ نے 9 ستمبر کو توڑ پھوڑ شروع کی تو اداکارہ نے ممبئی حکومت اور مقامی انتظامیہ کے خلاف متعدد نفرت انگیز ٹوئٹس کیں اور ساتھ ہی انہوں نے ممبئی کو پاکستان کا مقبوضہ علاقہ بھی قرار دیا تھا۔

کنگنا رناوٹ کی جانب سے ممبئی کو پاکستان کا مقبوضہ علاقہ قرار دیے جانے کے بعد انہیں اپنے ہی بھارتیوں نے دھمکیاں دینا شروع کی تھیں،جس کے بعد مرکزی حکومت نے انہیں اعلیٰ سیکیورٹی فراہم کی تھی۔
بعد ازاں کنگنا رناوٹ نے اپنے بنگلے کی توڑ پھوڑ رکوانے کے لیے ممبئی ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر بھی حاصل کیا تھا، جس کے بعد میونسپل انتظامیہ نے بنگلے کی توڑ پھوڑ روک دی تھی۔
تاہم اب اداکارہ کی مشکلات مزید بڑھ گئیں، کیوں کہ مہارا شٹر کی شیوسینا کی حکومت نے ممبئی پولیس کو منشیات سے متعلق تفتیش کا حکم دے دیا۔
کنگنا رناوٹ کو وزیر اور اعلیٰ حکومتی عہدیدار کی طرز کی سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے—فوٹو: انڈین ایکسپریس
بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مہارا شٹر کے وزیر داخلہ انیل دیش مکھ نے ممبئی پولیس کو اداکارہ کے خلاف منشیات سے متعلق تفتیش کا حکم دے دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزیر داخلہ کی جانب سے لکھا گیا خط ممبئی پولیس کو موصول ہوچکا ہے، جس میں ریاستی وزیر نے اداکارہ سے متعلق ایک پرانے انٹرویو کا حوالہ دیا ہے۔


