ترکی میں کرد نواز خاتون رکن پارلیمنٹ کو دہشت گردی کے الزام میں 10 سال قید
انقرہ:ترکی میں مرکزی کرد پارٹی کی حامی ایک رکن پارلیمنٹ خاتون رہ نما کو دہشت گردی کے الزامات میں قصور وار ثابت ہونے پر10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رکن پارلیمنٹ رمزیہ طوسون ڈینٹ پر ایک مسلح دہشت گرد گروہ سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ وہ کردستان ورکرز پارٹی کی حامی ہیں اور اس کے لیے کام کرہی ہیں۔یہ گروپ ترکی میں کرد باغیوں کا 1984 کے بعد سے اب تک کا بڑا باغی گروپ سمجھا جاتا ہے۔ خاتون سیاست دان کو عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا ہے۔رمزیہ طوسون کا تعلق جنوب مشرقی ترکی کے سب سے بڑے شہر دیار بکر سے ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے رمزیہ پر کردستان ورکرز پارٹی کے سیاسی محاذمیں شامل ہونے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ترکی اس تنظیم کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے۔رمزیہ طوسون نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات مسترد کردئیے۔ خیال رہے کہ ترک حکومت گذشتہ تین سال سے اپنے سیاسی مخالفین کو دارو رسن کی سزائیں سنانے کی روش پرعمل پیرا ہے۔ اب تک بڑی تعداد ترک حکومت دسیوں سیاسی رہ نمائوں اور ارکان پارلیمنٹ کو جیلوں میں ڈالا جا چکا ہے۔


