بلوچ سٹوڈنٹس کونسل ملتان کے زیراہتمام احتجاجی کیمپ کو بارہ دن مکمل
بلوچ سٹوڈنٹس کونسل ملتان کے زیراہتمام احتجاجی کیمپ کو بارہ دن گزرگئے ہیں جوکہ بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے مختص نشستوں پر فیس لینے کی پالیسی کے خلاف لگایا گیا ہے جس میں موجود مظاہرین کا موقف ہے کہ بارہ روز گزرنے کے باوجود حکومت اور یونیورسٹی کی طرف سے ہماری آواز کونہیں سنایا گیا طلبا کے مطابق ان کا حکومت اور یونیورسٹی دونوں سے مطالبہ ہے کہ وہ ہمارے لیے پرانی پالیسی کو برقرار رکھیں اور ڈی جی خان اور راجن پور کےقبائلی طلبا کےلیے بھی کوٹے پر سکالرشپ اور ان کےلیے ہرشعبے میں کوٹا رکھاجائے طلبا کے مطابق ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کایہ علاقہ بھی بلوچستان کے باقی ماندہ علاقوں کی طرح پسماندہ ہیں اور تعلیمی سہولیات بہت کم ہیں اور طلبا کےلیے تعلیمی مواقع بہت کم ہیں دریں اثنا!ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے نوجوان طالب علم اظہربلوچ کے مطابق ان علاقوں میں تعلیم کی بہت کمی ہے اور سکولوں میں اساتذہ بھی نہیں آتے ان کے مطابق اس علاقے کوترقی یافتہ بنانے کےلیے وہاں تعلیمی ادارے بنانے کےساتھ ساتھ حکومت اساتذہ کےلیے تنخواہ زیادہ سےزیادہ کرے تاکہ وہاں وہ دلجمعی سے پڑھا سکیں اور انہوں نے ہمارے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں وزیراعلی جناب عثمان بزدارسے اپیل کرتاہوں کہ وہ ہمارے بلوچستان کے طلبا کی سکالرشپ کوبحال کرنے میں مددکریں اور اپنے قبائلی علاقوں کےلیے تعلیمی سہولیات کےساتھ یونیورسٹی میں ان کا کوٹا مختص کریں جبکہ چیرمین بلوچ سٹوڈنٹس کونسل وقاربلوچ کے مطابق ابھی تک ہمیں کسی طرف سے کوئی یقین دہانی نہیں کی گئی بلکہ ہمیں دھمکانے کی کوششیں جاری ہیں انہوں نے گورنرپنجاب سےمطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے لیے پرانی پالیسی دوبارہ سے شروع کریں تاکہ ہمارے نئے آنےوالے طلبا اپنی پڑھائی شروع کرسکیں جبکہ ٹوئٹر پر اس سلسلے میں مہم چلائی گئی جوکہ ٹوئٹر پر ٹرینڈبنانے میں کامیاب ہوئی دوسری جانب طلبا نےاس عزم کااظہار کیا جب تک ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے تب تک ہم کہیں نہیں جائیں گے


