ملتان بلوچ طلبا کا احتجاج بدستور جاری ،کوئی پرسان حال نہیں
بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے گیٹ کےسامنے بلوچ طلبا کااحتجاجی کیمپ چودہویں دن بھی جاری رہا واضح رہے یہ احتجاجی کیمپ یونیورسٹی کی طرف سے مختص نشستوں پر فیس لاگو کرنے کی پالیسی کےخلاف ہے
جبکہ بلوچ طلبا کے مطالبات میں فیس پالیسی واپس لینے کے ساتھ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کےقبائلی علاقوں کے طلبا کےلیے کوٹے پہ سکالرشپ کے اجرا کےساتھ ہرشعبہ جات میں ان کےلیے نشستیں تخصیص کرنا بھی شامل ہے اور انجینرنگ کالج کے داخلے براہ راست ڈائریکٹوریٹ سے کروانا بھی طلبا کے مطالبات میں شامل ہے البتہ ابھی تک کسی بھی فورم پر ان کے مطالبات نہیں سنیں گئے اور نہ ہی ان سے کوئی مذاکرات کیا جارہا ہے طلبا کے مطابق ہم نے حکومت پنجاب ،بلوچستان اور سینٹ چیرمین تک اپروچ کیا مگر کہیں سے بھی شنوائی نہیں ہوئی حتی کہ اپوزیشن بھی اس ایشو پہ نہلے پہ دہلے کا کردار ادا کررہی ہے
طلبا نے ملک کےسیاسی وسماجی تنظیموں کی بلوچ سٹوڈنٹس کونسل ملتان کی تحریک کےساتھ معاندانہ رویہ پرافسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں عوامی مسائل کو اجا گر کرنے کےلیے پہلےاحتجاج کارآمد ہوتا تھا مگراب ہمارے احتجاج پران کا رویہ سیاسی معاندانہ رویہ کا شکار ہے کیا ہم اس ملک کےشہری نہیں ہیں؟ کیا وہ ہمارے ساتھ نیکی کے دو بول نہیں بول سکتے ؟ جبکہ شدید گرمی میں ایک نوجوان طالب علم محمد بخش کے بے ہوش ہونے کی خبر بھی ہے واضح رہے طلبا نے عندیہ دیا ہے جب تک ہمارے طالبات نہیں مانے جاتے تب تک ہم احتجاجی کیمپ میں بیٹھے رہیں گے


