واشک میں ترقیاتی کام صرف فائلوں تک محدود ہیں، زابد ریکی

واشک: جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی و خادم واشک حاجی میرز ابد علی ریکی نے کہا ہے کہ واشک بلوچستان کا پسماندہ ترین ضلع ہے واشک میں سینکڑوں بچے سکولوں سے دور ہیں لوگوں کو بنیادی سہولیات عدم دستیاب ہو چکی ہے واشک کے عوامی مسائل کے حل کے لیئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو موجودہ دور حکومت میں دور دور تک نظر نہیں آتی ان خیالات کا اظہار میڈیا کے نمائندگاں سے بات چیت کرتے ہوئے کی حاجی میر ذابد علی ریکی نے کہا کہ واشک کے باسیوں نے ہمیں منتخب کرکے کرپشن و ناانصافی کو مسترد کرکے ایک تاریخ رقم کر دی ہے جو ارباب اختیار عوام کی رائے کا احترام نہیں کرتے وہ حکمرانی کا حق نہیں رکھتے واشک وہ واحد ضلع ہے جہاں ماضی میں اربوں کے کرپشن کی گئی ترقیاتی کام صرف فائلوں کی حد تک محدود ہیں ماضی میں لوگوں کی معیار زندگی کو بہتر بنانے کے بجائے ابتر بنا دی گئی چور دروازے سے عوامی حقوق پر آج بھی ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ عروج پر ہے کب تک عوام کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے واشک کے مظلوم عوام نے بیلٹ کے ذریئے ان لیڈروں کو مسترد کر دیا جھنوں نے واشک کے عوامی فنڈز کو اپنے لیئے بینک بینلس بنا کر جائیدادیں حاصل کی حاجی میر ذابد علی ریکی نے کہا کہ واشک کے باشعور عوام یہ بات ذہین نشین کر چکے ہیں کہ موجودہ صوبائی حکومت واشک کے عوامی مینڈیٹ سے خائف عوام کے انتخاب کو ماننے سے گریزاں من مانیوں میں مصروف عمل ہے حاجی میر ذابد علی ریکی نے کہا کہ واشک میں کئی دیہاتوں کو پینے کے صاف پانی کہ فراہمی کے لیئے سولر واٹر سپلائی اسکیم فراہم کر دی کئی بی ایچ یوز اور سکولوں کو اپ گریڈ کی گئی جو عوام پر احسان نہیں بلکہ انکا بنیادی حق ہے واشک کے عوام کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑا جائیگا ہمارا جینا مرنا واشک کے عوام کے ساتھ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں