منصوبے کے تحت بلوچستان میں منشیات کو عام کیا جارہا ہے، کوئٹہ میں بی این پی عوامی کی احتجاجی ریلی
کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی نے کہا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچستان میں منشیات پھیلا کر تعلیم یافتہ،ہنر مند،سیاسی و با صلاحیت نوجوانوں کو تباہی،بربادی اور محتاجی کے دلدل میں دکھیلنے کی گہری سازش کی جا رہی ہے جسکو بی این پی (عوامی) کسی صورت کامیاب ہونے نہیں دیگی نوجوان نسل ہمارا سرمایہ ہے جن کے کاندھوں پر صوبے کی ترقی،خوشحالی کا بوج ہے آئین کی بالادستی جمہور کی تحفظ ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچا کر ایک مثبت سوچ کی جانب راغب کیا جائے بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کے زیر اہتمام صوبے میں منشیات کیخلاف پر امن احتجاجی موٹر سائیکل ریلی نکالی گئی جو ہزاروں شرکاء پر مشتمل تھی ریلی پارٹی کے ضلع آفس ڈاکٹر ناشناس کالونی سے شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پریس کلب پہنچی جلسے کی شکل اختیار کرگئی اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی،حسن ایڈووکیٹ،چیئرمین محی الدین بلوچ،سی سی کے ممبروضلعی آرگنائزر عبدالوکیل مینگل،سی سی کے ممبر الٰہی بخش بلوچ،ملک صادق بنگلزئی،لالا حسن ریکی،مرکزی کونسلر و سینئر رہنماء حاجی علی نواز لہڑی،مرکزی کونسلر بہادر ناشناس لہڑی،رحمت مری ،ظفر بلوچ ودیگر نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) نے اس امر کو دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت زیادہ شدت سے محسوس کیا ہے کہ بلوچستان میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت منشیات کی لعنت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے نہ صرف معاشرتی برائی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ہمارے مستقبل کی ضمانت نوجوان نسل اس دلدل میں بری طرح پھنستی جا رہی ہے جسے بی این پی (عوامی) کی سیاسی قیادت کسی صورت قبول نہیں کریگی اسی بنیاد پر بلوچستان بھر میں منشیات کیخلاف احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ہے ان ریلیوں کے زریعے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز،اینٹی نارکوٹیکس فورس اور ہر اْس ادارے کو یادداشت پیش کی گئی ہے جو منشیات کیخلاف موثر کارروائی کرنے کے مجاز ہے ان پر امن ریلیوں کا مقصد نوجوان نسل میں شعور اجاگر کرنا ہے کہ وہ منشیات کیخلاف ایک سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہوجائے اور اپنے اور اس صوبے کے مستقبل کو منشیات سے محفوظ رکھ سکیں انہوں نے کہا کہ اگر صوبے بھر میں منشیات فروشی کا بغور جائزہ لیا جائے تو ہر گلی محلے میں اس گھناونے کاروبار سے منسلک افراد موجود ہے جو کھلے عام یہ زہر قاتل ہماری نوجوان نسل کی رگوں میں ڈال رہے ہیں جس کا تدارت تمام اقدامات سے اہم ہے اور ہم سمجھتے ہے کہ جب تک ایسے سماج دشمن عناصر کیخلاف کارروائی کو ترجیحات میں شامل نہیں کیا جاتا بہتری کے خواب دیکھنا بے سود ہوگا بی این پی (عوامی) نے ان معاشرتی دشمنوں کیخلاف بغاوت کا علم بلند کردیا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی،جمہوری قوتیں سول سوسائٹی اس جہد میں شامل ہو کیونکہ یہ مسئلہ اجتماعی ہے اور اس کے خلاف متحد ہوکر جہد کرنا ہی وقت کی ام ضرورت ہے اگر اس وقت بھی ہم نے ہوش کے ناخون نہ لیئے تو آنے والی نسل ہمیں کبھی معا ف نہیں کریگی انہوں نے کہا کہ جس طرح منشیات فروشی معاشرے میں عام ہوتی جا رہی ہے اس میں یہ کہنا قطعاًدرست نہیں ہوگا کہ منشیات کیخلاف کارروائی کرنے والے ادارے اس سے بے خبر ہو ں تاہم ہم ایک بار پھر ان اداروں سے بھی پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان کے وسیع تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سماج دشمن منشیات فرودشوں کیخلاف پوری طاقت سے کارروائی عمل میں لائی جائے اور اپنے اقدامات سے یہ ثابت کیا جائے کہ یہ ادارے منشیات کیخلاف کارروائی میں سنجیدہ ہیں بعد ازاں مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔


